سپریم کورٹ نے ڈیجیٹل شواہد کو قتل کیس میں قابل قبول شہادت تسلیم کر لیا۔ نور مقدم قتل کیس میں مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت برقرار رکھنے کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا گیا۔ قرار دیا کہ مجرم نے نور مقدم کا بہیمانہ قتل کیا وہ کسی ہمدردی کا مستحق نہیں۔ عدالت نے ڈیجیٹل شواہد کے حوالے سے مقامی اور غیرملکی عدالتی فیصلوں کا حوالہ بھی دیا ہے۔
سپریم کورٹ نے نور مقدم کے قاتل ظاہر جعفر کی سزائے موت ڈیجیٹل شواہد کو بنیادی ثبوت تسلیم کرتے ہوئے برقرار رکھنے کا اعلان کردیا۔ سپریم کورٹ نے اہم مقدمے کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کے تحریر کردہ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ڈیجیٹل شواہد نے مختلف مقدمات میں ایک اہم کردار ادا کیا، ماضی قریب میں ایسے شواہد کو ثانوی شہادت سمجھا جاتا تھا، ڈیجیٹل ثبوت کو بنیادی شہادت کا درجہ دینے کیلئے متعلقہ قوانین میں مطلوبہ تبدیلیاں کی گئیں، مجرموں کا سراغ لگانے اور ان کی شناخت کیلئے یہ شواہد اہم ہیں۔
فیصلے میں قرار دیا گیا کہ قابل اعتماد نظام سے لی گئی فوٹیج خودبخود شہادت بن سکتی ہے، بینک ڈکیتی کیس میں ویڈیو فوٹیج بغیر گواہ کے قبول کی جاچکیں، امریکی عدالتوں میں ایسے شواہد کو "خاموش گواہ" کے طور پر وسیع پیمانے پر تسلیم کیا جاتا ہے۔
فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ نور مقدم قتل کیس میں ویڈیو ریکارڈنگ میں کوئی ترمیم ثابت نہیں ہوئی، ملزم کی شناخت صحیح نکلی، ڈی این اے رپورٹ سے زیادتی کی تصدیق ہوئی، آلۂ قتل پر مقتولہ کا خون موجود ہے۔
فیصلے کے مطابق مجرم نے ظالمانہ طریقے سے نور مقدم کے سینے پر چھری کے وار کئے اور سر قلم کر دیا، مجرم سے کوئی رعایت نہیں کی جاسکتی۔
نور مقدم کو ظاہر جعفر نے 20 جولائی 2021ء کو اسلام آباد میں تشدد کے بعد قتل کیا تھا۔ سیشن کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو 24 فروری 2022ء کو سزائے موت کا حکم سنایا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے ظاہر جعفر کی اپیل 13 مارچ 2023ء کو مسترد کردی، سپریم کورٹ نے رواں سال 20 مئی کو مختصر فیصلہ سناتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی تھی۔



















