معروف صنعتکار عارف حبیب کا کہنا ہے کہ شرح سود 22 سے 11 فیصد پر آگئی ہے، اسٹاک مارکیٹ کی ویلیو شرح سود کم ہونے سے بڑھی، سرمایہ کاری میں رکاوٹیں شرح سود کی وجہ سے ہیں، شرح سود میں مزید کمی ہونی چاہیے۔
سماء کے پروگرام ’ ندیم ملک لائیو ‘ میں معروف صنعتکار عارف حبیب نے قومی اقتصادی سروے 2025-24 کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا پرائمری سرپلس کا ہدف حاصل ہوگیا ہے لیکن گروتھ کا ہدف حاصل نہیں ہوسکا۔
معروف صنعتکار کا کہنا تھا کہ اگلے سال گروتھ کا ہدف 4.2 فیصد رکھا گیا ہے، لارج اسکیل مینوفیکچرنگ بڑھانا ہوگی پھر گروتھ کا ہدف حاصل ہوگا۔
عارف حبیب کا کہنا تھا کہ زراعت کے شعبے میں سب سے زیادہ روزگار ملتا ہے جبکہ کنسٹرکشن کے حالات اچھے نہیں رہے اور عوام کہہ رہے ہیں میکرو استحکام آگیا تو ہمیں اس سے کیا لینا؟۔
انہوں نے کہا کہ پچھلے سال تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس بڑھایا گیا جس سے بوجھ بڑھا۔
ان کا کہنا تھا کہ جولائی میں بجلی کی قیمت میں مزید کمی کا وعدہ کیا گیا ہے، ہائی ٹیکس ریٹ اور بجلی کی زیادہ قیمتوں پر زیادہ سرمایہ کاری نہیں ہوسکے گی۔



















