جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے 18 سال سے کم عمر کی شادی پر پابندی کے بل کو قرآن و سنت کے منافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
اتوار کے روز پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ 18 سال سے کم عمر کی شادی پر پابندی جیسے قوانین سے نکاح کے عمل میں غیر ضروری مشکلات پیدا کی جارہی ہیں جبکہ اس بل کو اسلامی نظریاتی کونسل مسترد کر چکی ہے اور تمام علماء اور انکی تنظیمیں اس کو قران اور سنت کے منافی قرار دے چکی ہیں۔
سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ نکاح کے لئے مرد اور خاتون کے لئے کوئی عمر کی قید نہیں بلکہ نکاح کے لئے بلوغت ضروری ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) پر کرپشن کے خلاف احتجاج کو طنز کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ "ایک لطیفہ سنا کہ پیپلز پارٹی نے کرپشن کے خلاف احتجاج نہیں، بلکہ اپنا کرپشن کا ریکارڈ ٹوٹنے پر احتجاج کیا۔"
انہوں نے خیبرپختونخوا (کے پی) اسمبلی میں کرپشن کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسپیکر کے پی اسمبلی نے خود 40 ارب روپے کی کرپشن کا انکشاف کیا اور بتایا کہ یہ رقم 200 ارب تک جا سکتی ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے مطالبہ کیا کہ 40 ارب روپے کی کرپشن کے الزامات کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے تاکہ حقائق سامنے آسکیں۔



















