یوکرین نے سائبیریا کے ایرکٹسک علاقے میں واقع بیلیا ائیر بیس پر حملہ کر کے روس کے جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے اسٹریٹجک بمبار طیاروں کو نشانہ بنایا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ حملہ یوکرین کی جانب سے روسی سرحد کے اندر سب سے طویل فاصلے تک کیا گیا حملہ ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر تصدیق شدہ ویڈیوز اور تصاویر میں بیلیا ائیر بیس پر متعدد روسی بمبار طیاروں کو آگ کی لپیٹ میں دیکھا جا سکتا ہے۔
BREAKING: Major Ukrainian FPV drone swarm hits Russian airbases.
— Clash Report (@clashreport) June 1, 2025
Massive FPV drone attacks struck Olenya and Belaya airbases.
Several Russian Tu-95MS strategic bombers on fire. pic.twitter.com/GFxWt4EJ1O
یہ طیارے روایتی اور ایٹمی ہتھیاروں سے طویل فاصلے کے اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
یہ ائیر بیس یوکرین کے محاذ جنگ سے 4,000 کلومیٹر سے زائد فاصلے پر واقع ہے جو اس حملے کی حیران کن نوعیت کو ظاہر کرتا ہے۔
کیف میں یوکرینی انٹیلی جنس کے ایک اہلکار نے دعویٰ کیا کہ یوکرین کی داخلی سیکیورٹی ایجنسی (ایس بی یو) نے ایک بڑے پیمانے پر ڈرون حملے میں 40 سے زائد روسی لڑاکا اور بمبار طیاروں کو تباہ کیا۔
ان طیاروں میں Tu-95 اور Tu-22M شامل ہیں جو روس یوکرین پر طویل فاصلے تک میزائل داغنے کے لیے استعمال کرتا رہا ہے۔
بیلیا ائیر بیس روس کے ان اہم فضائی اڈوں میں سے ایک ہے جہاں تیز رفتار اسٹریٹجک بمبار طیارے Tu-22M تعینات ہیں۔
روس کا ردعمل
روسی وزارتِ دفاع کی جانب سے یوکرین کے ڈرون حملوں پر جاری کیے گئے ردعمل میں حملوں کو دہشت گردی قرار دیا گیا ہے۔
روسی وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ یوکرین نے مرمانسک، ارکتسک، ایوانوو اور ریازان پر حملے کئے جن کے بعد کئی طیاروں میں آگ لگ گئی۔
وزارت دفاع کے مطابق ایئربیسز پر کیے گئے تمام حملے ناکام بنا دیے گئے ہیں۔





















