ایم ایس کے عہدے کیلئے ڈاکٹرز کی جانب سے جعلی دستاویزات پر درخواستیں دیئے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ محکمہ صحت نے تحقیقات شروع کرتے ہوئے 10 ڈاکٹرز کو 3 روز میں جواب جمع کروانے کا حکم دیدیا۔
پنجب میں ایم ایس کی نشست کیلئے جعلی دستاویزات پر درخواستیں دئیے جانے انکشاف ہوا ہے، محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ 3 خواتین سمیت 10 ڈاکٹرز نے جعلی دستاویزات ظاہر کیں۔
محکمہ صحت پنجاب نے جعلی دستاویزات کے معاملے پر تحقیقات شروع کردیں، ڈاکٹرز کو 3 روز میں جواب جمع کروانے کا حکم دیا گیا ہے۔
محکمہ صحت کے مطابق جعلی سرٹیفکیٹ پر اپلائی کرنیوالوں میں عزیز بھٹی اسپتال گجرات کے قائم مقام ایم ایس بھی شامل ہیں جبکہ نشتر اسپتال ملتان، شاہدرہ اسپتال کے ڈاکٹرز نے بھی جعلی دستاویز جمع کرائیں، لیڈی ویلنگڈن اسپتال لاہور، قائداعظم میڈیکل کالج بہاولپور کے ڈاکٹر بھی اسکینڈل میں ملوث ہیں۔
شوکاز نوٹس کے مطابق میڈیکل سپرٹنڈنٹ بننے کیلئے پبلک ہیلتھ ڈپلومہ تجربے میں دکھایا گیا، ایم ایس کیلئے ماسٹر پبلک ہیلتھ کی ڈگری سمیت مختلف ڈپلومہ ہونا ضروری ہے۔





















