سپریم کورٹ نے نور مقدم قتل کیس میں مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت کا حکم برقرار رکھا تاہم کچھ دفعات میں مجرم کو رعایت بھی مل گئی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے نور مقدم قتل کیس کا فیصلہ سنا دیا، عدالت نے مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت کا حکم برقرار رکھا جبکہ مجرم کے مالی اور چوکیدار کی سزاؤں میں کمی کرکے رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ مالی اور چوکیدار جتنی سزا کاٹ چکے ہیں وہ کافی ہے۔
عدالت نے مجرم کو کچھ دفعات میں سزا پر رعایت بھی دے دی، زیادتی کے جرم میں ظاہر جعفر کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کردی گئی، اغواء کے جرم میں 10 سال سزا کم کرکے ایک سال قید بامشقت کردی گئی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے سرکاری وکیل کو کہا کہ ریاست کی طرف نوجوانوں کو ’’لیو ان ریلیشن‘‘ کی تباہ کاریاں بتائیں، نوجوان نسل کو آئس کے نشے سے متعلق بھی آگاہ کریں، آپ کو نہیں پتہ کہ یونیورسٹیز میں آئس کتنی آسانی سے ملتی ہے؟ کیا علاقے کے ایس ایچ او کی مرضی کے بغیر یہ سب ہو سکتا ہے؟ یہاں ڈائیلاگ بازی نہیں جو آپ کے کرنے کے کام ہیں وہ کریں۔
کیس کا پس منظر
واضح رہے کہ 27 سالہ نور مقدم کو 20 جولائی 2021 کو دارالحکومت کے پوش علاقے میں ایک گھر میں قتل کیا گیا تھا، اسی روز ظاہر جعفر کے خلاف واقعے کا مقدمہ درج کرتے ہوئے اسے جائے وقوعہ سے گرفتار کرلیا گیا تھا۔
عدالت نے 14 اکتوبر کو ظاہر جعفر سمیت مقدمے میں نامزد دیگر 11 افراد پر فرد جرم عائد کی تھی۔ 24 فروری 2022 کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے سابق پاکستانی سفیر کی بیٹی نور مقدم کے بہیمانہ قتل سے متعلق کیس میں ظاہر جعفر کو سزائے موت سنادی تھی۔
عدالت نے مختصر فیصلے میں ظاہر جعفر کو قتل عمد کے سلسلے میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 کے تحت سزائے موت سنائی تھی اور نور مقدم کے ورثا کو 5 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
بعدازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے نور مقدم کے بہیمانہ قتل سے متعلق کیس میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد کی جانب سے ظاہر جعفر کو سزائے موت سنانے کا حکم برقرار رکھتے ہوئے سزا کے خلاف اپیلیں مسترد کر دی تھیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے نور مقدم قتل کیس میں مرکزی ملزم ظاہر جعفر کی سزا کے خلاف اپیل پر وکلا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ 21 دسمبر 2022 کو فیصلہ محفوظ کیا تھا اور چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں ڈویژن بینچ نے فیصلہ سنایا تھا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے ظاہر جعفر کی سزا کے خلاف اپیل مسترد کر تے ہوئے شریک مجرمان محمد افتخار اور جان محمد کی سزا کے خلاف اپیلیں بھی خارج کر دی تھیں جنہیں ٹرائل کورٹ نے 10، 10 سال قید کی سزا سنائی تھی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے ظاہر جعفر کی ریپ کے جرم میں 25 سال قید کی سزا بھی سزائے موت میں تبدیل کردی تھی، اسلام آباد ہائی کورٹ نے ظاہر جعفر کو 2 مرتبہ سزائے موت کا فیصلہ سنایا تھا۔






















