سپریم کورٹ نے نور مقدم قتل کیس کی سماعت کے دوران وقفہ کردیا، ساتھ ہی آج ہی فریقین کو سن کر فیصلہ سنانے کا عندیہ بھی دیدیا۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے ملزم کے وکیل کو کہا کہ اگر ریلیف بنتا ہوا تو دیدیں گے ورنہ شہید کردیں گے۔
سپریم کورٹ میں نور مقدم قتل کیس کی سماعت کے دوران وقفہ کردیا گیا، عدالت نے آج ہی فریقین کو سن کر فیصلہ کرنے کا عندیہ دیدیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ملزم کے وکیل سے مکالمے میں کہا کہ ریلیف بنتا ہوا تو دے دیں گے ورنہ شہید کردیں گے، ساڑھے گیارہ بجے مخصوص نشستوں والا کیس ہے، اگر بینچ ٹوٹ گیا تو 12 بجے کے قریب نور مقدم کا مقدمہ سن لیں گے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر مخصوص نشستوں والا بینچ نہ ٹوٹا تو ایک بجے مزید سماعت ہوگی، ججز کو تھوڑا بہت احساس کرنا چاہئے، ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ اپیل ابتدائی سماعت کیلئے منظور کی اور پھر کیس نہ سنا جائے، دس دس سال تک لوگ ڈیتھ سیل میں رہتے ہیں، اب ایسا نہیں ہوگا۔
دوران سماعت ملزم کے وکیل سلمان صفدر نے جج ارشد ملک ویڈیو اسکینڈل کیس کے فیصلے کا حوالہ دیا۔ جس پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیئے کہ جسٹس آصف کھوسہ کے وڈیو اور آڈیو تصدیق کے فیصلے پر انحصار کررہے ہیں۔
اس سے قبل سماعت کے دوران وکیل نے کہا کہ ملزم کی 2013ء سے آج تک کی میڈیکل ہسٹری عدالت میں پیش کردی ہے، ملزم کو قتل پر سزائے موت، ریپ پر عمر قید اور اغواء پر دس سال قید کی سزا سنائی گئی، اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریپ کی سزا عمر قید سے بڑھا کر سزائے موت کردی، قرار دیا کہ عمر قید یعنی کم سزا دینے کی وجوہات ٹرائل کورٹ نے نہیں بتائیں۔
وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ابتدائی ایف آئی آر صرف قتل کی تھی دیگر جرائم بعد میں شامل کیے گئے، وقوعہ کے 22 دن بعد اغواء اور ریپ کی دفعات شامل کی گئیں، جائے وقوعہ ملزم کا گھر تھا اس کے شواہد پیش نہیں کیے گئے، ریکارڈ کے مطابق رات 10 بجے واقعہ ہوا، ساڑھے 11 بجے قتل کا مقدمہ درج ہوا، پوسٹ مارٹم صبح ساڑھے 9 بجے ہوا جس کے مطابق نور مقدم کا انتقال رات 12 بج کر 10 پر ہوا۔
سلمان صفدر کا مزید کہنا تھا کہ واقعے کے ایک زخمی امجد کو پولیس نے گواہ کے بجائے ملزم بنا دیا، پولیس کا انحصار سی سی ٹی وی فوٹیج پر ہے، ملزم کا فوٹو گرامیٹک ٹیسٹ بھی کروایا گیا۔
دوران سماعت عدالت میں بانی پی ٹی آئی کے نو مئی مقدمے کا بھی تذکرہ ہوا۔ سلمان صفدر نے کہا کہ فوٹوگرامیٹک ٹیسٹ کا ذکر کچھ دن پہلے ایک اور کیس میں بھی آیا تھا۔ جسس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ وہ فیصلہ تو آپ کے حق میں کر دیا تھا۔
سلمان صفدر نے اعتراض اٹھایا کہ آلۂ قتل ایک چھوٹا سا چاقو ہے جس پر ملزم کے فنگر پرنٹس بھی موجود نہیں، مدعی شوکت مقدم کے علاوہ تمام گواہ سرکاری تھے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیئے کہ واقعے کا کوئی چشم دید گواہ نہیں تمام شواہد واقعاتی ہیں۔



















