سُپر پاور امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ جدہ ایئر پورٹ پر جہاز سے اتر کر اپنی ٹائی سے ملتے جُلتے جامنی کارپٹ پر نہایت پر اعتماد انداز میں چل رہے تھے تو دنیا بھر میں یہ مناظر ٹی وی چینلز پر لائیو نشر ہو رہے تھے۔ اپنی دوسری مدت صدارت کے دوران جب ایئرفورس ون ریاض کے قریب پہنچا تو سعودی پائلٹس نے 6 امریکی ساختہ ایف 15 طیاروں کے ذریعے پروٹوکول دیا۔ ٹرمپ کی لیموزین کو سفید عربی گھوڑوں کے ساتھ روانہ کیا گیا۔ شاہی ٹرمینل میں روایتی قہوہ کی تقریب ہوئی جہاں انہیں صدیوں قدیم روایت کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ بٹھایا گیا۔ دنیا بھر کا میڈیا اُس وقت حیران و پریشان ہو گیا جب صدر ٹرمپ کو بطور استقبالیہ قہوہ پیش کیا گیا جو انہوں نے نہایت چالاکی سے سعودی ولی کی پیچھے ایک ٹیبل پر رکھ دیا اور محو گفتگو ہو گئے۔ یہ اشارہ تھا کہ تجارت ، دوستی اور تعلقات اپنی جگہ، لیکن سُپر پاور کا صدر کسی پر اعتبار نہیں کرتا اور اپنی شرائط پر کام کرتا ہے۔
صدر ٹرمپ کا یہ طوفانی دورہ اپنے اندر مستقبل کا جغرافیائی، سیاسی اور معاشی منظر نامہ سموئے ہوئے ہے۔ عرب دنیا کی مہمان نوازی پر اظہار تشکر کے ساتھ ساتھ انہوں نے مشرق وسطیٰ کا سیاسی منظر نامہ اور مستقبل تبدیل کرنے والے کئی اعلانات بھی کر ڈالے۔ پورے دورے میں چار نکات بہت واضح نظر آئے۔
پہلا اسرائیل کو تسلیم کرانے کے لئے دباؤ یا درخواست، باالفظ دیگر غزہ کا بحران:دوسرا ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا اور تیسرا شام سے پابندیوں کا خاتمہ اور چوتھا اربوں ڈالر کے بزنس کانٹریکٹس، سرمایہ کاری اور تجارت۔
چونکہ وہ اپنے منہ آپ میاں مٹھو بننے کا بھی کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے، اسی لئے جگہ جگہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کا کریڈٹ لیتے رہے، تاہم سعودی عرب کی سرزمین پر کھڑے ہو کر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف ہمارے لئے قابل اطمینان امر ہے۔
غزہ المیئے پر تو ایک لفظ بھی ٹرمپ کی زبان پر نہ آسکا بلکہ کمال ہوشیاری سے بحث کا رُخ بحالی امن اور یرغمالیوں کی رہائی کی طرف موڑ دیا۔ مغربی میڈیا کے مطابق تو ڈونلڈ ٹرمپ نے شام کے عبوری صدر احمد الشرح سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا مطالبہ اور سعودی عرب کو بھی ابراہام اکارڈز کا حصہ بننے پر زور دیا، لیکن محمد بن سلمان نے بھی واضح کیا کہ ایسا تب تک نہیں ہوگا جب تک غزہ میں مستقل جنگ بندی نہیں ہوتی اور فلسطینی ریاست کے قیام کا راستہ صاف نہیں ہوجاتا۔
دورے کے معاشی پہلو پر نظر ڈالیں تو جدہ کے شاہی محل میں امریکی صدر نے سعودی عرب کو اپنا سب سے مضبوط شراکت دار قرار دیا ۔ فورم میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ مملکت 600 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کے مواقع پر غور کر رہی ہے اور امید ہے کہ یہ بڑھ کر ایک ہزار ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق 600 ارب ڈالر سے زیادہ کے اس پیکج میں ’تاریخ کا سب سے بڑا ہتھیاروں کا سودا‘ بھی شامل ہے۔ سب سے بڑا سودا امریکا کا تقریباً 142 ارب ڈالر کے ہتھیاروں کی فروخت ہے۔ امریکا نے اسے ’تاریخ کا سب سے بڑا دفاعی معاہدہ‘ قرار دیا ہے۔
یہ معاہدہ پانچ اہم نکات پر مشتمل ہے: سعودی عرب کی فضائی اور خلائی صلاحیتوں کو مضبوط کرنا، میزائل دفاعی نظام، میری ٹائم اور کوسٹل سکیورٹی ، زمینی اور سرحدی افواج کی جدید کاری، معلومات و مواصلاتی نظام کی بہتری،دفاع، توانائی، انفرااسٹرکچر اور مصنوعی ذہانت جیسے شعبوں میں تعاون۔ سعودی عرب امریکا میں ڈیٹا سینٹرز، ایوی ایشن، صحت اور معدنیات میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔
خارجہ پالیسی کے تجزیہ کار ڈینیئل ڈی پیٹرس سمجھتے ہیں کہ یہ معاہدہ ایک علاقائی فوجی طاقت کے طور پر سعودی عرب کی پوزیشن کو مضبوط کرتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان گیس پائپ لائن اور ٹربائن کی برآمد سے متعلق 14.2 ارب ڈالر کے معاہدے پر بھی دستخط ہوئے۔اس پیکج میں سعودی عرب کی سرمایہ کاری کو امریکی صنعت میں لانے کے لیے سیکٹرل فنڈز بنانے کی بھی بات کی گئی ہے۔
دورہ قطر
ٹرمپ سعودی عرب کے بعد دورے کےدوسرے مرحلے میں قطر پہنچے۔ قطر کے ساتھ انہوں نے تجارتی اور دفاعی تعاون کے معاہدوں پر دستخط کیے جن میں امریکی کمپنی کے 200 ارب ڈالر مالیت کے 160 طیاروں اور امریکی ایم کیو 9 بی ڈرون طیاروں کی فروخت شامل ہے۔
دورہ یو اے ای
دورہ سعودیہ کے بعد صدر ٹرمپ جمعرات کو ابوظبی پہنچے جہاں متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید نے ان کا شاندار استقبال کیا۔ یہاں بھی صدارتی محل میں روایتی قبائلی دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔ متحدہ عرب امارات اور امریکا کی آرٹیفیشل انٹیلی جنس شراکت داری کا آغاز ہوگیا ہے۔ یو اے ای میں ڈیٹا سینٹرز قائم کیے جائیں گے جنہیں امریکی کمپنیاں آپریٹ کریں گی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ولی عہد شیخ خالد بن محمد کے ہمراہ شیخ زاید مسجد کا دورہ بھی کیا۔
آزاد مغربی مبصرین کہتے ہیں کہ صدر ٹرمپ کےدورہ مشرق وسطیٰ کو بڑے کینوس پر دیکھنا ہو گا۔ اُن کے ساتھ بڑے بزنس مین موجود ہیں جو اُن کے بڑے مقاصد اور بڑے خوابوں کا اشارہ ہیں اور ان خوابوں کا محور “بزنس” ہی ہے۔ جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے پروفیسر نادر ہاشمی سمجھتےہیں ”صدر ٹرمپ کے پہلے دور صدارت میں جو تجارتی لنکس ادھورے رہ گئے تھے، وہ اب انہیں اب پھر سے جوڑنا چاہتے ہیں“۔
فلنڈر یونیورسٹی میں سینئر انٹرنیشنل ریلیشنز لیکچرر جیسیکا کے نزدیک صدر ٹرمپ بزنس اور مالی فوائد پر ہی اپنے خارجہ پالیسی کا مستقبل طے کریں گے۔ تمام معاشی مبصرین شام سے پابندیاں ہٹانے کو تجارت و بزنس کی نظر سے ہی دیکھتے ہیں، یعنی صدر ٹرمپ اپنے گلف کے دوستوں کو ایسا جیو پولیٹیکل فائدہ دینا چاہتے ہیں جو مستقبل میں اُن کے فیصلوں پر نظر انداز ہو سکے۔ اس کا ایک مثبت پہلو خود صدر ٹرمپ کیلئے یہ بھی ہے کہ بعض حلقے غزہ کو نظر انداز کر کے ان کے اس معاشی پیکج پر گفتگو کو ترجیح دینا شروع کر دیں گے۔
بعض مبصرین ٹرمپ کے اس دورے میں اسرائیل کو شامل نہ کرنے کو بھی ان کی ایک سیاسی چال سمجھتے ہیں کیونکہ یہ تو طرے ہے کہ کوئی بھی عرب ملک فی الوقت اسرائیل سے ہاتھ نہیں ملائے گا کیونکہ وہ وہاں خون و خاک کا کھیل چکا ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ نکتہ نہایت باریک بینی سے اپنے قریبی ساتھیوں سے ڈسکس کیا ہو گا اور یقینی طور پر وہ اس نتیجے پر پہنچے ہوں گے اس موقع پر اُن کا اسرائیل جانا مشرق وسطی میں غصے کی لہر کو جنم دے سکتا ہے۔
بہرحال، موجودہ حالات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دورہ مشرق وسطیٰ تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ بظاہر یہ وزٹ”میگا ڈیلز“ نظر آتا ہے، لیکن یہ بھی اشارہ ہے کہ ٹرمپ اپنے ملک کی خارجہ پالیسی نئے سرے سے لکھتے ہیں جس کا محور یہ ہے کہ
کون یہاں عاشق خدا کی ذات کا ہے
سارا چکر یہاں معاشات کا ہے
تعارف
عبدالوحید اعوان ایک سینئر صحافی ہیں جو اس وقت "سماء ٹیلی ویژن" سے وابستہ ہیں، وہ گزشتہ 30 سال سے شعبہ صحافت میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں اور اس دوران وہ متعدد معروف اخبارات اور ٹی وی چینلز کے ساتھ وابستہ رہ چکے ہیں۔





















