چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے 16 مئی 2025 کو پشاور ہائیکورٹ کی بنوں بینچ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ چیف جسٹس نے عدالتی اصلاحات، قانونی تربیت، اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کی اہمیت پر زور دیا۔
چیف جسٹس نے مشکل حالات میں خدمات انجام دینے والے ججز سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ جوڈیشری کی خودمختاری کو انصاف کی مؤثر فراہمی کیلئے ناگزیر قرار دیا۔
دورے کے دوران چیف جسٹس نے چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس ایس ایم عتیق شاہ سے ملاقات کی، جس میں عدلیہ اور وکلا کی استعداد کار بڑھانے سے متعلق تفصیلی گفتگو کی گئی۔
اس موقع پر کرک، لکی مروت، شمالی وزیرستان سمیت مختلف اضلاع کے ججز اور نمائندوں نے چیف جسٹس سے ملاقات کی، جس میں عدالتی استعداد، ادارہ جاتی تعاون، اور قانونی تعلیم و تربیت کے حوالے سے گفتگو ہوئی۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے عدالتی نظام میں آٹومیشن اور مصنوعی ذہانت کے نفاذ کی فوری ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ کم ترقی یافتہ علاقوں کو فنڈز کی ترجیحی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ ان علاقوں میں خدمات انجام دینے والے ججز کو تربیتی مواقع اور مراعات فراہم کرنے پر بھی زور دیا۔
چیف جسٹس نے ٹریننگ ماڈیولز کی تیاری پر گفتگو کی جو وکلا کی عملی تربیت کیلئے استعمال ہوں گے۔
دورے کے دوران چیف جسٹس نے جیل، اسپتال اور کچن کا بھی معائنہ کیا اور قیدیوں سے براہ راست بات چیت کی۔ اس موقع پر انہوں نے ڈرگ ری ہیبیلیٹیشن سنٹر کا افتتاح بھی کیا۔
چیف جسٹس کو قیدی بہادر خان سے ملوایا گیا جس کا کیس 2019 سے زیر التوا تھا اور حال ہی میں 23 اپریل 2025 کو فیصلہ ہوا۔ چیف جسٹس نے اس غیر ضروری تاخیر پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کو چالان بروقت جمع کرانے کی ہدایت دی۔
انہوں نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج کے کردار کو مؤثر بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ"محفوظ اور آزاد عدالتی ماحول شہریوں کو انصاف کی فراہمی کیلئے لازم ہے۔"






















