مخصوص نشستوں سے متعلق کیس میں سنی اتحاد کونسل کے وکیل کی جواب جمع کرانے کیلئے مہلت کی استدعا منظور کرلی گئی۔
سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں مخصوص نشستوں کے فیصلے کیخلاف نظرثانی کیس کی سماعت کے دوران سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے جواب جمع کرانے کیلئے وقت مانگ لیا۔ عدالت نے استدعا منظور کرتے ہوئے سماعت 19 مئی تک ملتوی کردی۔ جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 11 رکنی آئینی بینچ نے سماعت کی۔
سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے کہا پہلی سماعت کا نوٹس نہیں ملا جبکہ دوسری پر جنگ چھڑ گئی تھی۔ بینچ پر اعتراض کی درخواست بھی جمع کرانا چاہتا ہوں۔ مناسب ہوگا پہلے بینچ کی تشکیل پر اعتراض سن لیا جائے۔
جسٹس امین الدین خان نے کہا اب آپ کو تیسری تاریخ پر اعتراض یاد آیا ہے؟ جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ میرے خیال میں سب کو شنوائی کو مناسب موقع ملنا چاہئے۔ اگر متفرق درخواست دائر کرنے کیلئے وقت دیا جائے تو فرق نہیں پڑے گا۔
فیصل صدیقی نے کہا مجھے متفرق درخواست دائر کرنے کیلئے دو دن کا وقت دیا جائے۔ پہلے بینچ پر اعتراض والی میری درخواست کو سن لیا جائے۔ اگر درخواست خارج کرنی ہوئی تو بیشک مسکراتے ہوئے کر دیجیے گا۔
مسلم لیگ ن کے وکیل حارث عظمت نے کہا ہم نے کیس میں اضافی گزارشات جمع کرائی ہیں۔ اس کیس میں پرائیویٹ فریقین کی طرف سے مخدوم علی خان وکیل ہیں۔ اگر مناسب ہو تو مخدوم علی خان کو بطور سینئر وکیل پہلے سن لیں۔
جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیئے کہ پہلے دلائل دینے کا معاملہ درخواست گزار آپس میں طے کر لیں۔ مزید سماعت 19 مئی تک ملتوی کردی گئی۔






















