پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر ) کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کا کہنا ہے کہ بھارتی جارحیت کے خلاف آپریشن بنیان مرصوص سے مسلح افواج نے عوام سے کیا وعدہ پورا کر دیا ہے۔
پاک فضائیہ اور بحریہ کے سینئر افسران کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران ترجمان پاک فوج احمد شریف کا کہنا تھا کہ 6 اور 7 مئی کو بھارتی جارحیت کے باعث بچوں اور عورتوں سمیت بے گناہ شہری شہید ہوئے، ہمارے دل اور ہمدردیاں شہدا کے خاندانوں کے ساتھ ہیں ، ہم نے بھارتی جارحیت کے خلاف آپریشن بنیان مرصوص کیا اور مسلح افواج نے دشمن کو منہ توڑ جواب دیا، اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں جس کی مدد سے ہمیں کامیابی ملی۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اور اور وفاقی کابینہ کے مشکور ہیں جنہوں نے مشکل وقت میں اہم فیصلے کیے، عوام، جوانوں اور سیاسی قیادت کے شکرگزار ہیں جو ریاست کے ساتھ کھڑے ہوئے، پاکستان کے نوجوانوں نے فرنٹ لائن سولجر کا کردار ادا کیا، پاکستان کے غیور عوام افواج پاکستان کے ساتھ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاک افواج نے آپریشن بنیان مرصوص کے دوران 26 بھارتی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا اور پاکستان کے خلاف استعمال ہونے والی تمام جگہوں پر جواب دیا گیا جبکہ بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں فوجی اہداف کو بھاری نقصان پہنچایا گیا۔
ترجمان پاک فوج نے بتایا کہ آپریشن بنیان مرصوص میں اُڑی نیٹ ورکس اسٹیشن ، پونچھ راڈار، سورت گڑھ، سرسہ، آدم پور، اونتی پورہ میں اہداف کو نشانہ بنایا جبکہ اودھم پور میں بھی اہداف کو نشانہ بنایا گیا اور 2 مقامات پر بھارت کے ایس 400 بیٹری سسٹم کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔
انہوں نے بتایا کہ بیاس اور نگروٹا میں براہموس میزائلوں کے اڈے پر بھی حملہ کیا گیا اور بھرپور سائبر حملے بھی کیے گئے جن کے ذریعے بھارتی فوج کے زیر استعمال سسٹم کو مفلوج کیا گیا، نوشہرہ میں بریگیڈ 10 اور 8 کے ساتھ ساتھ زمین، فضا ، بحری اور سائبراسپیس میں ہم نے اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا جبکہ ایئر بیسز میں سرینگر ، مامون ، امبالہ اور پٹھان کوٹ کو ٹارگٹ کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی وسیع تر ٹیکنالوجی میں سے صرف محدود پیمانے پر کچھ کا تحمل کے ساتھ استعمال کیا اور اس طرح کی بیشمار ٹیکنالوجی کی صلاحیتیں ہمارے پاکستان موجود ہیں جو آئندہ استعمال کی جائیں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ مشرقی سرحد پر پاک فوج کی مصروفیت کے دوران خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں بھی بھارتی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی میں اضافہ ہوا ، افواج نے مغربی محاذ پر بھی آپریشنز کو جاری رکھا، بھارت پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہے جس کے ثبوت بھی موجود ہیں لیکن کوئی شک میں نہ رہے اور ہماری خودمختاری پر حملہ کیا گیا تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے بتایا تھا کہ ہم جواب دیں گے ، ہماری سرحدوں کی خلاف ورزی کی گئی تو ہمارا ردعمل جامع ، جوابی اور فیصلہ کن ہوگا اور ہم نے یہ بھی بتایا تھا جواب ہماری مرضی ، وقت اور جگہ کے تعین کے حساب سے ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے میزائل فتح ون اور ٹو کا استعمال کیا ، پاکستان نے ملٹری ٹارگٹس کے علاوہ کہیں اور حملہ نہیں کیا ، ہمارا مذہب سویلینز کو ٹارگٹ کرنے کا درس نہیں دیتا ، پاکستان کا ردعمل درست ، مناسب اور محدود تھا ، ہمارے ڈرون نئی دہلی اور دیگر بھارتی شہروں میں پرواز کرتے رہے جبکہ ایل اوسی پر بھی شدید جوابی کارروائی کی گئی یہاں تک وہ سفید جھنڈے لہرانے پر مجبور ہوئے۔
وائس ایڈمرل ربنواز کی بریفنگ
نیوی افسر وائس ایڈمرل ربنواز نے بریفنگ کے دوران کہا کہ اللہ کے فضل سے ہم بحری لحاظ سے دفاع پاکستان میں کامیاب ہوئے، ہم سمندر کی سائیڈ سے کسی بھی جارحیت کیلئے تیار تھے اور ہم مسلسل 24 گھنٹے سے سمندری حدود کی نگرانی کر رہے تھے۔
وائس ایڈمرل ربنواز نے کہا کہ 8 سے 12 مگ جہاز ہمارے ایئر کیریئر پر موجود تھے اور 6 اور7 مئی کو حملے کے بعد ہم نے بھرپور تیاری کر رکھی تھی جبکہ بھارتی وکرانت حملے کے بعد ہماری حدود سے باہر چلا گیا ، وہ ہمارے نشانے پر تھا، نیوی کے ساتھ ساتھ فضائی طور پر بھی اس وکرانت کی مانیٹرنگ کر رہے تھے۔
ایئروائس مارشل اورنگزیب کی بریفنگ
ایئروائس مارشل اورنگزیب نے بریفنگ کے دوران کہا کہ پاکستان ایئرفورس کی بہترین کارکردگی پر اللہ کا شکر گزار ہوں، پاک فضائیہ نے امن اور جنگ میں اپنی تیاری مکمل رکھی ہوئی ہے، ایئرچیف نے ہمیں جو ہدایات جاری کیں ان پر عمل کیا اور اپنے دفاع کا حق استعمال کرتے ہوئے ان اہداف کو نشانہ بنایا جنہوں نے پاکستان پر حملہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایئرڈیفنس آپریشن میں بھارت کے تمام ڈورنز اور میزائلز کی آمد موجود ہے، ڈرونز کو جام کر کے ، ڈیٹا فراہمی کی تقسیم کو روکا اور سافٹ اور ہارڈ ’کل ‘ پالیسی اپنائی جبکہ ہارڈ کل صرف ان علاقوں میں کیا گیا جہاں پر عوام اور شہری موجود تھے۔
انہوں نے کہا کہ پاک فضائیہ نے فضا میں اپنی آپریشنل صلاحیتوں کو استعمال کیا، ہم نے ان تمام ڈرونز کی نشاندہی کر کے تمام کو تباہ کیا، شہری علاقوں میں ڈرونز کی آمد کے ساتھ براہموس میزائل آیا جسے تباہ کیا، براہموس میزائل مار کر پاکستانی سالمیت پر حملے کیے گئے، بھارت کی جانب سے امرتسر میں میزائل اپنے ہی علاقے میں اپنے شہریوں کو نشانہ بنا رہے تھے جبکہ ہمارے ہائپرسونگ میزائل ، ڈرونز اور دیگر میزائل نے اپنے اہداف کو نشانہ بنایا۔
انہوں نے قوم کو خوشخبری سنائی کہ پاک فضائیہ کو بھارت کی فضائیہ کے مقابلے میں 6 صفر سےکامیابی ملی یعنی پاکستان کی جانب سے بھارت کے 6 طیارے گرائے گئے جبکہ پاکستان کے تمام طیارے محفوظ رہے۔
بھارت اور پاکستان میں جنگ کی کوئی اسپیس نہیں
ایک سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ 1971 کے بعد پہلی بار پاک فضائیہ کو سرحد کو پار کرنا پڑا ، پاک فضائیہ امن کے ساتھ طاقت اور خطے میں اپنی موجودگی کو قائم رکھے گی جبکہ پاک فضائیہ ، بحری اور بری افواج پاکستان کے دفاع کے لئے متحد ہے ، بھارت اور پاکستان میں جنگ کی کوئی اسپیس نہیں ، اس جنگ میں پاکستان نے میچور انداز سے ایکٹ کیا ہے ، جارحیت کے 2 جوہری طاقت کے حامل ممالک میں تھی جس میں اضافہ ہو رہا تھا ، 1.6 بلین لوگ متاثر ہو سکتے تھے ، پاکستان اور بھارت میں جنگ کی گنجائش نہیں ، جو جنگ چاہتا ہے اس سے صرف اس کے ذاتی مفادات کے مقاصد ہی مکمل ہو سکتے تھے۔
بھارت کا کوئی پائلٹ ہماری تحویل میں نہیں
بھارتی پائلٹ کی گرفتاری سے متعلق زیر گردش خبروں بارے سوال کے جواب میں ترجمان پاکستان فوج کا کہنا تھا کہ میں واضح کردوں کہ ہمارے پاس کوئی بھارتی پائلٹ نہیں ہے اور یہ صرف سوشل میڈیا پر پراپیگنڈہ ہے، بھارت کا کوئی پائلٹ ہماری تحویل میں نہیں ہے۔
جنگ بندی درخواست بھارت کی تھی
جنگ بندی سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے سیز فائر کی کوئی درخواست نہیں کی تھی ، جنگ بندی کی درخواست بھارت کی تھی اب ان کی کوئی حرکت ہو یا ایکشن ہوا تو اس پر ہماری فورسز تیار ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ہم نے مذاکرات کے لئے یا سیز فائر کے لئے نہیں کہا، صرف کہا کہ جب تک جواب نہیں دیں گے مذاکرات نہیں ہونگے اور یہ دوستوں اور مداخلت کاروں کو بتا دیا تھا کہ جواب کہ بغیر مذاکرات کی ٹیبل پر نہیں بیٹھ سکتے۔
مسئلہ کشمیر کے حل تک امن نہیں آسکتا
کشمیر سے متعلق سوال کے جواب میں ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدے پر حکومت کی پوزیشن کلیئر ہے ، مسئلہ کشمیر کے حل تک پاکستان اور بھارت میں امن نہیں آسکتا ، کشمیر فلیش پوائنٹ ہے اور کشمیریوں کے امنگوں کے مطابق حل ہونا چاہیے ، کشمیر ایک بیرونی مسئلہ ہے ، بھارت اندرونی معاملات کیلئے استعمال کرتا ہے، بھارت کشمیر کا اسٹیٹس اور ڈیموگرافی تبدیل کر رہا ہے ، پہلگام کے بعد کشمیریوں کے گھروں کو گرایا گیا۔
پاکستان کی جانب سے ایل او سی پر کوئی خلاف ورزی نہیں
ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان آرمی کی جانب سے ایل او سی پر کوئی خلاف ورزی نہیں ہو رہی ، ہم امن پسند قوم ہیں ، جارحیت ہوئی تو ہم جواب دیں گے اور ہم نے جواب دیا ، پاکستان میں امن پر جشن منایا جا رہا ہے۔



















