یہ جو فضا میں گرج ہے، امن کا پیغام ہے،
یہ جو زمیں پر سکون ہے، سرفروشوں کا نام ہے۔
ہر اک سپاہی، ہر اک افسر، ہے قربانی کی مثال،
یہ فتح نہیں صرف جنگ کی، یہ ہے کردار کی کمال۔
شاہین جو نیل گگن میں اڑے، بجلی کی طرح کوندے،
دشمن کے دل میں ہیبت بنے، ہواؤں پہ لکھے پرچم!
فلک کو چھوتی اُن کی نظر، زمیں پہ بھی ہے فکر بصر،
نہ صرف وہ قوت کا نشاں، وہ حکمت کا بھی ہیں عَلم۔
رہی قیادت جو باوقار، رہی دلوں سے ہم کنار،
فیصلوں میں نرمی بھی تھی، مگر فولادی حوصلے۔
نہ جوش میں ہو کوئی غلطی، نہ ہو غرورِ طاقت کبھی،
یہی ہے اصل حکمتِ جنگ، یہی ہیں امن کے مرحلے۔
سلام اُنہیں جو خامشی سے بڑی کہانیاں لکھ گئے،
جو رات دن کے پہر دار تھے، جو قوم کے نگہبان تھے۔
نہ صرف گولی، نہ صرف توپ، قلم بھی اُن کے ساتھ تھی،
اُنھی کے فیصلوں سے آج، امن کی بات ممکن ہوئی۔
یہ قوم تمھاری محنت پہ نازاں، یہ پرچم ہے تمھاری جان،
رہے سلامت ہر سپاہی، رہے قیادت کا احترام۔
جو صلح کی راہ دکھا گئے، وہ اصل ہیرو وہی ہوئے،
جو جنگ جیت کے امن لائے، وہی دلوں میں بسے ہوئے۔
نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔





















