پاکستانی فضائیہ کے شاہینوں کے ہاتھوں بھارتی رافیل طیاروں کی تباہی کے سوال پر بھارتی فوج اور بحریہ کے اعلیٰ جرنیلوں نے ایک بار پھر خاموشی اختیار کرلی تاہم، ایئر مارشل ’اے کے بھارتی ‘ نے ڈھکے چھپے الفاظ میں اعتراف کیا ہے۔
حالیہ پریس کانفرنس کے دوران بھارتی ایئرمارشل اے کے بھارتی سے رافیل طیاروں کی تباہی کے حوالے سے دو بار سوالات کیے گئے لیکن دونوں بار انہوں نے واضح جواب دینے سے گریز کیا۔
تاہم، ایک صحافی نے ایئرمارشل سے پوچھا ’کیا ہم اس بارے میں اعداد و شمار دے سکتے ہیں کہ ہم نے کتنے اثاثے کھوئے ہیں؟ عالمی میڈیا رپورٹ کر رہا ہے کہ رافیل طیارے گرائے گئے ہیں، کیا آپ اس کی وضاحت کریں گے؟‘
اس کے جواب میں ایئرمارشل اے کے بھارتی نے کہا ’ ہم اس وقت لڑائی کی حالت میں ہیں اور نقصانات جنگ کا حصہ ہیں تاہم رافیل طیارے کی تباہی سے متعلق سوال پر رائے نہیں دے سکتے اور نقصانات کی تفصیل نہیں بتا سکتے۔‘
بھارتی حکام کی جانب سے رافیل کی تباہی کے سوالات پر مسلسل مبہم جوابات نے مزید سوالات کو جنم دیا ہے جبکہ عالمی میڈیا میں بھی اس حوالے سے بحث جاری ہے۔
یاد رہے کہ 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب بھارت کی جانب سے پاکستان اور آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں پر حملے کیے گئے تھے جس پر جوابی کارروائی میں پاکستان نے بھارت کے 5 جنگی طیارے مار گرائے تھے جن میں 3 رافیل طیارے بھی شامل تھے۔
بعدازاں، ایئر وائس مارشل اورنگزیب نے انٹرنیشنل میڈیا کے سامنے تین بھارتی رافیل طیاروں سمیت 5 طیاروں کو گرانے کے ثبوت بھی پیش کر دیئے تھے۔
لازمی پڑھیں۔ پاک فضائیہ نے بھارت کے تین رافیل سمیت پانچ طیارے گرانے کے ثبوت پیش کر دیئے
ایئر وائس مارشل اورنگریزیب نے تین بھارتی رافیل سمیت 5 بھارتی طیاروں کو گرانے کے ثبوت پیش کرتے ہوئے بھارتی طیاروں کے نمبرز اور تباہ ہونے کی لوکیشن بھی دکھائی جبکہ بھارتی پائلٹس کی آپس میں گفتگو بھی سنوائی اور آڈیو کال میں بھارتی رافیل کے فارمیشن کمانڈر نے کہا کہ ’’ ہمارا ایک ممبر مسنگ ہے ، فضا میں ایک دھماکہ سنا ہے ‘‘۔
یہ بھی یاد رہے کہ طیاروں کی تباہی کے بعد بھارتی میڈیا نے بھی اس بات کا اعتراف کیا تھا۔






















