وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے دشمن کے ساتھ وہی کیا جو ایک باوقار قوم کو زیب دیتا ہے، یہ افواج کے ساتھ ساتھ پوری قوم کی فتح ہے۔
قوم سے اپنے حالیہ خطاب میں وزیر اعظم شہباز شریف نے آپریشن بنیان مرصوص کی نسبت سے سورہ کی تلاوت اور اس کے ترجمہ سے خطاب کا آغاز کیا اور کہا کہ میرے محب وطن ، غیور اور باوقار پاکستانیوں میں آج آپ کو دل کی گہرائیوں سے سلام اور مبارکباد پیش کرتا ہوں، آپ نے ثابت کردیا ہے کہ پاکستانی خودار قوم ہے، ہماری خوداری ہمیں جان سے عزیز ہے، کوئی ہماری خودمختاری کو چیلنج کرے تو ہم سیسہ پلائی دیوار بن جاتے ہیں اور کلمہ کا ورد کرتے ہوئے دشمن پر غالب آتے ہیں۔
وزیر اعظم کا کہنا تھاکہ دشمن نے جو کیا وہ شرمناک عمل تھا جس کا ہماری دلیر اور بہادر افواج نے بھرپور جواب دیا اور عسکری تاریخ کا ایک سنہرا باب رقم کیا۔
شہباز شریف نے کہا کہ پہلگام واقعہ کو بہانہ کر بھارت نے ہم پر بلاجواز جنگ مسلط کی ، ہم نے بلاتاخیر تحقیقات کی پیشکش کی، بھارت کے بے بنیاد الزامات پر تحمل کا مظاہرہ کیا لیکن اس نے اپنے گھمنڈ میں ہماری سرحدوں کو پامال کرنے کی ناکام کوشش کی اور میزائلوں سے مصعوم جانوں، مساجد اور شہری آبادی کو نشانہ بنایا۔
انہوں نے کہا کہ دشمن نے فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنانے کی ناکام کوشش کی جس پر ہم نے فیصلہ کیا کہ اسے اسی زبان میں جواب دیا جائے جسے وہ اچھی طرح سمجھتا ہے اور ہم نے اسے واضح کر دیا کہ جو ملاقات میز پر ہونا تھی وہ اب میدان جنگ میں ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے سجیلے جوان ، جنہیں مائیں سجدوں میں مانگ کر وطن پر قربان کرنے کے لئے جوان کرتی ہیں، ان بہادوں کا مقابلہ کون کر سکتا ہے، ان شاہینوں نے چند گھنٹوں میں بھارتی فوج کی توپوں کو ایسا خاموش کیا جسے تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی، ان کے رافیل ہمارے شاہینوں کے نشانے پر آئے اور اللہ کے فضل سے فیل ہوگئے، ہماری یہ کارروائی اس بوسیدہ نظریے کے خلاف تھی جو انسان دشمنی، جارحیت ، مذہبی جنون اور تعصب پر قائم ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے دشمن کے ساتھ وہی کیا جو ایک باوقار کو زیب دیتا ہے، یہ افواج کے ساتھ ساتھ پوری قوم کی فتح ہے، افواج پاکستان کے جوانوں کا لہو دشمن کے ناپاک عزائم سے کھول اٹھتا ہے، بھارت کے ائیربیسز دیکھتے دیکھتےکھنڈرات بن گئے، پاکستان کو اصولوں کی بنیاد پر فتح حاصل ہوئی ہے ، یہ عظیم لمحہ شکر ہے جس کے لیئے عوام نے اپنے شیروں اور شاہینوں پر اپنی محبت کے پھول برسائے، پوری قوم افواج پاکستان کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آپ پاکستان کی افواج کی فتح کے لئے تہجد کے وقت سجدہ ریز رہے، دن رات دعائیں کی جس کے نتیجے میں اللہ نے کامیابی عطاء کی، میں اس تاریخی کامیابی پر چیئرمین چیف جوائنٹ آف اسٹاف ، سپہ سالار بری فوج، ایئر چیف مارشل، نیول چیف ، اپنے ہر جری جوان اور ہر افسر کو اپنی اور قوم کی طرف سے خراج تحسین اور سلام پیش کرتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ میں جنرل عاصم منیر کا اپنی اور دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں، اس اس کے ساتھ ساتھ میں چیف آف ایئر اسٹاف اور ان کے شاہینوں کو بڑی گرم جوشی سے شاباش دیتا ہوں جنہوں نے ہمارے سر فخر سے بلند کر دیے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ شہید ارتضٰی عباس ایسا پھول تھا جو کھلنے سے پہلے مرجھا گیا، ہر شہیدکی ماں کے صبر کو سلام عقیدت پیش کرتا ہوں جنہوں نے اپنے بچوں کو وطن پر قربان کردیا، میں اپوزیشن جماعتوں سمیت ملک بھر کی سیاسی جماعتوں اور پارلیمان کا شکرہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے بے مثال اور تاریخی یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔
شہباز شریف نے کہا کہ میں اپنے قائد نواز شریف کی قیادت اور تجربہ کار رہنمائی اور صدر مملکت آصف علی زرداری کی مشاورت پر خاص طور پر ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ میں اپنے صحافی بھائی بہنوں اور سوشل میڈیا صارفین کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے بھارت کی جعلی خبروں کا مقابلہ ذمہ دارانہ طریقے سے کیا۔
انہوں نے کہا کہ ہماری عسکری قوت نے دنیا کو حیران کر دیا ہے اور ہم اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک اپنا کھویا ہوا مقام حاصل نہ کرلیں، اس بحران میں سرخرو ہونے کے بعد اپنی توانائیاں ملکی ترقی کیلئے وقف کریں گے، اُمید ہے ہم یہ تاریخی حقائق ہمیشہ یاد رکھیں گے۔
وزیراعظم نے عالمی رہنماؤں ڈونلڈ ٹرمپ، محمد بن سلمان، محمد بن زاید، شیخ تمیم اور رجب طیب اردوان کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ امریکا، سعودی عرب، یو اے ای، ترکیہ، قطر، برطانیہ و دیگر دوست ممالک نے جنگ بندی کوششوں میں کردار ادا کیا، دوست ممالک نے پاکستان کی حوصلہ افزائی کی اور بھرپور ساتھ دیا۔
انکا کہنا تھا کہ میں بطور خاص چین کا شکریہ ادا نہ کروں تو آج کی یہ تقریر ادھوری رہےگی، چینی صدر اور چینی عوام نے پاکستان کی 78 سالہ تاریخ میں ہر مشکل گھڑی پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے ذمہ دار ریاست کے طور پر جنگ بندی کی تجویز کا مثبت جواب دیا ، یقین ہے آبی وسائل کی تقسیم اور جموں وکشمیر مسئلے کے حل کیلئے پر امن مذاکرات ہوں گے۔



















