اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) نے اپنی تازہ ترین مانیٹری پالیسی میں شرح سود کو 12 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، جس نے مارکیٹ کو حیران کر دیا۔ بیشتر ماہرین اور سرمایہ کار اس بات پر پُراعتماد تھے کہ مرکزی بینک ایک اور نمایاں کمی کا اعلان کرے گا، لیکن اسٹیٹ بینک نے محتاط رویہ اپناتے ہوئے شرح سود کو کم نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
بظاہر ملک کی معیشت میں بہتری کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔ گزشتہ چھ ماہ کے دوران اسٹیٹ بینک کی جانب سے مسلسل شرح سود میں کمی سے معاشی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے، اور اس کے ساتھ ہی مہنگائی کی شرح 1.5 فیصد کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ فروری کے مہینے میں مہنگائی کی یہ سطح تقریباً ایک دہائی میں سب سے کم ہے، جو کہ معیشت کے لیے خوش آئند قرار دی جا رہی ہے۔
اس کے علاوہ، پاکستان بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے ساتھ مذاکرات میں مصروف ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ موجودہ جائزہ اجلاس کے دوران ایک ارب ڈالر کی قسط حاصل کر لی جائے گی۔ یہ قسط ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں استحکام لانے میں معاون ثابت ہوگی۔ ان تمام مثبت عوامل کے باوجود، اسٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ کم نہ کرنے کا فیصلہ کیا، جس کی وجوہات کو سمجھنا ضروری ہے۔
پاکستان کی معاشی صورتحال بظاہر بہتر نظر آ رہی ہے، لیکن حقیقت میں کئی سنگین چیلنجز بدستور موجود ہیں۔ عالمی سطح پر مہنگائی اور معیشتی غیر یقینی صورتحال میں اضافہ ہو رہا ہے، اور روپے کی قدر اب بھی کسی بھی بڑے جھٹکے سے کمزور ہو سکتی ہے۔
اس کے علاوہ غذائی اجناس کی قیمتوں میں غیر متوقع اتار چڑھاؤ نے مہنگائی کے دوبارہ سر اٹھانے کے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ اگر اسٹیٹ بینک نے قبل از وقت شرح سود میں مزید کمی کر دی، تو نجی شعبے کے قرضے اور اخراجات بڑھ سکتے تھے، جو بالآخر مہنگائی میں اضافے کا باعث بنتے اور معیشت کو مزید دباؤ میں ڈال سکتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ اسٹیٹ بینک نے محتاط پالیسی اپناتے ہوئے شرح سود کو کم نہ کرنے کا فیصلہ کیا، تاکہ مہنگائی کو قابو میں رکھا جا سکے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال رہے۔
شرح سود کو برقرار رکھنے کے فیصلے سے کاروباری طبقے اور صارفین کو مایوسی ہو سکتی ہے، کیونکہ بلند شرح سود کی وجہ سے صنعتوں اور کاروباروں کو قرض لینا مہنگا پڑتا ہے، جو ان کے لیے مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔اس کے برعکس، اسٹیٹ بینک کا مؤقف ہے کہ اگر ترقی مصنوعی سہولیات کی بنیاد پر کی جائے، تو وہ پائیدار نہیں ہوتی اور معیشت کو دوبارہ کسی بحران کی طرف لے جا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بینک نے قلیل مدتی فوائد کی بجائے طویل مدتی استحکام پر توجہ دی ہے۔
یہ فیصلہ نہ صرف پاکستان کی معیشت کے تحفظ کے لیے لیا گیا بلکہ اس کا ایک اور اہم پہلو بھی ہے۔ اسٹیٹ بینک کا یہ اقدام بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) اور دیگر عالمی قرض دہندگان کے لیے ایک مثبت پیغام ہے کہ پاکستان اپنے مالیاتی معاملات میں محتاط اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کر رہا ہے۔یہ ایک طرح سے اس بات کی یقین دہانی کرانے کے مترادف ہے کہ حکومت اور مرکزی بینک کسی بھی غیر ضروری رسک سے بچنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں اور مہنگائی پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ مالیاتی نظم و ضبط کو یقینی بنا رہے ہیں۔
پاکستان کی معیشت اس وقت ایک نازک دور سے گزر رہی ہے، اور ایسے میں اسٹیٹ بینک کا محتاط طرزِ عمل ضروری نظر آتا ہے۔ پالیسی ریٹ میں مزید کمی کے لیے ضروری ہوگا کہ مہنگائی کی سطح مزید مستحکم ہو، زرمبادلہ کے ذخائر بہتر ہوں، اور عالمی مالیاتی خطرات کم ہوں۔فی الوقت، معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے ایک متوازن پالیسی اپنانا ہی بہترین حکمت عملی ہوگی۔ اگرچہ کاروباری حلقے اور عوام سستی قرضوں کی امید کر رہے تھے، مگر اسٹیٹ بینک کی یہ حکمت عملی معیشت کو طویل مدتی استحکام فراہم کر سکتی ہے۔
اسٹیٹ بینک کا پالیسی ریٹ کو 12 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ مشکل، مگر ضروری اقدام ہے۔ اگرچہ اس سے کاروباری طبقہ اور صارفین متاثر ہو سکتے ہیں، لیکن معیشت کے وسیع تر مفاد میں یہ ایک درست اور محتاط فیصلہ ثابت ہو سکتا ہے۔ پاکستان کو اس وقت کسی غیر مستحکم فیصلے کی بجائے ایک مضبوط اور پائیدار حکمت عملی کی ضرورت ہے، اور یہی وجہ ہے کہ مرکزی بینک نے استحکام کو ترجیح دی ہے۔