عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند ترین سطح کے قریب پہنچنے کے بعد مستحکم ہو گئیں۔
برینٹ کروڈ کے سودے 9 سینٹ، یا 0.1 فیصد بڑھ کر 74.86 ڈالر فی بیرل پر طے پائے۔ اس سے قبل یہ سودے 75 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئے تھے۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کے سودے 8 سینٹ، یا 0.1 فیصد بڑھ کر 71.56 ڈالر فی بیرل ہوگئے۔
ماہرین کے مطابق ایران، وینزویلا اور روس پر سخت پابندیاں عالمی رسد کو محدود کر سکتی ہیں، امریکی ٹیرف عالمی توانائی کی مانگ کو ماند کر سکتے ہیں اور اقتصادی ترقی کو سست کر سکتے ہیں جس سے تیل کی طلب پر مزید اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ نتیجے میں مارکیٹ کے لئے ایک واضح سمت پر شرط لگانا ایک چیلنج رہا ہے اور ایسا اب بھی ہورہا ہے۔
خیال رہے کہ اتوار کو ٹرمپ نے بتایا کہ وہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے سخت نالاں ہیں اور اگر ماسکو نے یوکرین میں جنگ ختم کرنے کی کوششوں کو روکنے کی کوشش کی تو وہ روسی تیل خریداروں پر 25 فیصد سے 50 فیصد تک اضافی ٹیرف عائد کریں گے۔
ٹرمپ نے یہ بھی دھممکی دی تھی کہ اگر ایران نے اپنے جوہری پروگرام پر معاہدہ نہ کیا تو وہ اس پر ٹیرف کی بمباری کرتا رہے گا۔
مارچ میں 49 ماہرین اقتصادیات اور تجزیہ کاروں پر مشتمل رائٹرز کے ایک سروے میں پیش گوئی کی گئی تھی کہ ہندوستان اور چین میں امریکی محصولات اور معاشی سست روی کی وجہ سے اس سال تیل کی قیمتیں دباؤ میں رہیں گی، جبکہ اوپیک پلس نے رسد میں اضافہ کیا ہے۔