خیبر پختونخوا میں کاروباری شخصیات سے ملاقات کے دوران وزیر خزانہ نے نجی شعبے پر زور دیا کہ وہ ملکی برآمدات میں قائدانہ کردار ادا کرے۔ کم شرح سود اور فرسٹ لاس گارنٹی (نقصان کی پہلی ذمہ داری) جیسے وعدے بظاہر خوش آئند ہیں، تاہم، زیادہ ٹیکسوں اور آسمان سے باتیں کرتے ہوئے توانائی کے نرخوں کی موجودگی میں صارفین کو ریلیف دینا مشکل نظر آتا ہے۔
ان چیلنجز کے باوجود، گزشتہ چند ماہ میں حاصل کی گئی معاشی استحکام قابل تعریف ہے۔ وزارت خزانہ اپنی ماہانہ اکنامک اپڈیٹ اینڈ آؤٹ لک رپورٹ (فروری 2025) میں ضرورت سے زیادہ پرامید دکھائی دیتی ہے۔ مہنگائی، شرح سود اور مالی خسارے میں نمایاں کمی آئی ہے، جبکہ برآمدات، ترسیلات زر، غیر ملکی سرمایہ کاری، اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کو بڑی کامیابیوں کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
پاکستان برسوں کی کوششوں کے باوجود ایک برآمدات پر مبنی معیشت نہیں بن سکا اور ہمیشہ ترسیلات زر پر انحصار کرتا آیا ہے۔ ترسیلات زر میں اضافے کو معاشی ترقی کی علامت سمجھنا کیا دانشمندی ہوگی؟۔ تاہم، ایسے وقت میں معیشت کے مستحکم ہونے کا تاثر دینا، جب اگلے ہفتے عالمی مالیاتی فنڈ (IMF) کا مشن پاکستان کا دورہ کرنے والا ہے، کچھ حیران کن معلوم ہوتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت حقیقی مسائل کے حل پر توجہ دینے کے بجائے صرف آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے پر زور دے رہی ہے۔ مزید برآں، ان مثبت تبدیلیوں کے پیچھے کارفرما اصل وجوہات کو زیادہ کھل کر بیان نہیں کیا گیا۔محض غیر ملکی سرمایہ کاری پر انحصار کرنے کے بجائے مقامی سرمایہ کاروں کو بھی متحرک کرنا ضروری ہے، جس کے لیے انہیں مناسب منافع کی یقین دہانی کرائی جانی چاہیے۔
اگرچہ بعض دوست ممالک نے بیرونی قرضوں کی بڑی رقم کو موخر کر دیا ہے، لیکن اصل قرض کی ادائیگی بدستور باقی ہے اور اگلے سال اسے واپس کرنا ہوگا۔ آئی ایم ایف کے قرضوں کے سہارے وقتی مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے، لیکن یہ ہمیشہ کڑی شرائط کے ساتھ آتے ہیں، اور اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو ملک مزید مشکلات میں الجھ سکتا ہے۔ اس مشکل سے نکلنے کا واحد راستہ برآمدات میں اضافہ ہے، اور اس کے لیے حکومت اور کاروباری برادری دونوں کو سخت فیصلے لینے ہوں گے۔ قلیل مدتی فوائد کو قربان کیے بغیر طویل مدتی معاشی استحکام ممکن نہیں۔