پشاور ہائیکورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے لاپتہ افراد کیس میں رپورٹ جمع نہ ہونے اور فوکل پرسن کی عدم حاضری پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ کیا اس کے وارنٹ جاری کریں۔
پشاور ہائیکورٹ میں 2020ء میں ڈی آئی خان سے لاپتہ شخص سے متعلق درخواست کی سماعت شروع ہوئی تو عدالت سے فوکل پرسن غیر حاضر تھا اور نہ ہی متعلقہ کیس کی رپورٹ پیش ہوئی۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ یہ رپورٹ اتنا لیٹ کیوں ہوئی ہے؟، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے جواب دیا کہ پورے صوبے اور پاکستان سے معلومات لینی ہوتی ہیں، اس وجہ سے لیٹ ہو جاتی ہے، ہوم ڈیپارٹمنٹ میں فوکل پرسن ہوتا ہے وہ تمام معلومات اکٹھی کرکے رپورٹ دیتا ہے۔
اس پر چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے ریمارکس دیئے کہ فوکل پرسن تو آج موجود ہی نہیں ہے، کیا ہم ان کی وارنٹ جاری کریں۔
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ فوکل پرسن اسلام آباد لاپتہ افراد کمیشن گئے ہیں، ایک ہی فوکل پرسن ہوتا ہے وہ یہاں بھی پیش ہوتے ہیں اور اسلام آباد میں بھی حاضری دیتے ہیں۔
قائم مقام چیف جسٹس نے حکم دیا کہ دوسرا فوکل پرسن رکھ لیں، اس حوالے سے آج ہی اعلامیہ لے آئیں۔ عدالت نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو لاپتہ شخص سے متعلق رپورٹ جمع کرنے کی ہدایت کی اور سماعت ملتوی کردی۔