سابق قومی ٹیم کے کھلاڑی عبدالقادر مرحوم کے بیٹے سلمان قادر نے سماء کے پروگرام ’ زور کا جوڑ ‘ میں خصوصی شرکت کی اور قومی ٹیم کی موجودہ صورتحال پر اظہار خیال کیا ۔
تفصیلات کے مطابق ساجد خان کوٹیم میں شامل نہ کرنے پر سلمان قادر کا کہناتھا کہ کرکٹ بورڈ اور کوچز نے ساجد خان سے لازمی بات کی ہو گی کہ وہاں پچز سازگار نہیں ہیں، یہاں پر نعمان اور ساجد نے نئے گیند سے باولنگ کروائی ہے ، مینجمنٹ نے سوچا ہو گا کہ وہاں پر دو میچز ہیں اور ہو سکتا ہے کہ ساجد خان کو موقع نہ ملے اور انہیں بینچ پر ہی بیٹھانا پڑے ۔
سلمان قادر کا کہناتھا کہ ایسا نہیں ہوا ہو گا کہ انہوں نے ساجد خان سے بات کیئے بغیر ہی انہیں ٹیم سے باہر کر دیا ہو، ان سے بات کی گئی ہو گی ۔ مجھے یقین ہے کہ ایسا ہی ہوا ہو گا ورنہ ساجد کی طرف سے کوئی بیان ضرور آتا۔
ان کا کہناتھا کہ فخر نے بابر کے حق میں ٹویٹ کیا تو اس میں کیا غلط تھا، کوئی بری بات نہیں کی ، جیسے آپ اپنی اولاد کیلئے نرم گوشہ رکھتے ہیں اس لیے کرکٹ بورڈ کا بھی اس طرح کا رویہ ہونا چاہیے جیسا وہ اپنے بیٹے کے ساتھ رکھتے ہیں ، بورڈ کا کردار باپ کا ہوتا ہے ، میری دعا ہے کہ وہ چیمپئنز ٹرافی میں آئیں
میزبان میرب نے سوال کیا کہ ماضی میں عمران خان دراصل عبدالقادر مرحوم کے بہت اچھے دوست رہے ہیں لیکن جب عبدالقادر مرحوم دنیا سے رخصت ہوئے تو ان کے انتقال پر وہ خود نہیں آئے بلکہ فیملی کو کہا کہ آپ میرے پاس آجائیں ۔میزبان کے سوال پر سلمان قادر نے کہا کہ میں نے یہ بات وہیں ختم کر دی تھی ، میں نے مزید اس پر بات نہیں کرنی ہے ، یہ بات وہیں ختم ہو گئی، میں اس پر پہلے بھی قادر خواجہ کو بتا چکا ہوں ۔ میرے والد صاحب کی بطو ر کرکٹ صلاحیت نہ تو عمران خان سے کم تھی اور نہ ہی جاوید میانداد سے کم تھی ۔






















