ملکی معیشت کی بحالی کے لیے حکومت پاکستان کے بڑے پیمانے پر اقدامات اور اینٹی اسمگلنگ کریک ڈاؤن کامیابی سے جاری ہے۔
آٹا، چینی، کھاد اور تیل جیسی اہم اشیاء کی اسمگلنگ کے باعث عوام کو بدترین حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، تاہم عوام کی سلامتی اور مستحکم معیشت کی خاطر اسمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کیا گیا ہے۔
کریک ڈاؤن کے دوران 23 تا 30 جون کے دوران ملک بھر سے 3 میٹرک ٹن چینی، 61 میٹرک ٹن کھاد، 30361 سگریٹ کے سٹاکس، 103 کپڑے کے تھان اور 0.138 ملین لیٹر ایرانی تیل برآمد ہوا۔
اعداد و شمار کے طمابق متعلقہ اداروں نے ملتان سے 1280، پشاور سے 27616، کوئٹہ سے 1342 اور کراچی سے 123 سگریٹ کے سٹاکس برآمد کیے۔
ملتان سے 8 ، کراچی سے 59 ، اور کوئٹہ سے 36 کپڑے کے تھان برآمد ہوئے۔
ملتان سے 0.014 ، کراچی سے 0.038 پشاور سے 0.026 اور کوئٹہ سے 0.060 ملین لیٹر ایرانی تیل بھی ضبط کیا گیا۔
یکم ستمبر 2023 سے اب تک ملک بھر سے 3208 میٹرک ٹن کھاد، 281 میٹرک ٹن آٹا، 34665 میٹرک ٹن چینی، 314915 سگریٹ کے سٹاکس، 149550 کپڑے کے تھان اور 6.747 ملین لیٹر ایرانی تیل برآمد ہوچکا ہے۔
متعلقہ ادارے ملک کو مشکل وقت سے نکالنے کے لیے اسمگلنگ کے خلاف اپنی کاروائیاں جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔





















