روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایران کے نئے رہبرِاعلیٰ اور صدر کو بھیجے گئے پیغام میں کہا ہے کہ ’ماسکو اس مشکل وقت میں تہران کا ’وفادار دوست اور قابلِ اعتماد شراکت دار‘ رہے گا۔
کریملن کے بیان کے مطابق ایرانی نئے سال کے پہلے دن کے موقع پر دیے گئے پیغام میں پیوٹن نے مجتبیٰ خامنہ ای اور مسعود پزشکیان کو کہا کہ انھیں اُمید ہے کہ ایرانی عوام ’ان آزمائشوں سے نکلنے میں کامیاب ہو جائے گی۔‘
دوسری جانب روس نے وسطی ایران میں واقع نطنز کی جوہری تنصیب پر فضائی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی‘ قرار دیا ہے۔
روس کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماریہ زاخارووا نے ایک سرکاری بیان میں حملے کی ذمہ داری سے متعلق تفصیلات میں جائے بغیر کہا کہ ’یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔‘
اسی تناظر میں ایران نے اعلان کیا ہے کہ اس نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کو نطنز جوہری سائٹ پر حملے سے آگاہ کر دیا ہے۔
یاد رہے کہ ایرانی میڈیا میں شائع ہونے والے ایک بیان میں ایران کی ایٹمی توانائی تنظیم نے کہا ہے کہ تابکار آلودگی سے متعلق ’تکنیکی اور ماہرین کی جانچ‘ مکمل کر لی گئی ہے اور نتائج کے مطابق ’اس تنصیب سے تابکار مواد کے کسی بھی اخراج کی اطلاع نہیں ملی، اور آس پاس کے رہائشی علاقوں کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے۔‘
یہ بھی یاد رہے کہ اے ای او آئی اس سے قبل بھی نطنز پر حملے کی تصدیق کر چکی ہے اور اس کی جانب سے تین مارچ کو جاری کردہ بیان میں کہا گیا تھا کہ دو روز قبل (یکم مارچ) تنصیب پر ہونے والے حملوں کے بعد بھی تابکار مواد کے اخراج کا کوئی ریکارڈ نہیں ملا تھا۔





















