پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی نے واضح کیاہے کہ جو کھلاڑی ڈومیسٹک کرکٹ کھیلے گا اسے ہی کنٹریکٹ دیا جائے گا اور وہ کھیلے گا، ون ڈے، ٹی ٹوینٹی اور ٹیسٹ میچز کی میچ فیس بڑھا رہے ہیں جبکہ ڈومیسٹک کی بھی میچ فیس بڑھا رہے ہیں، اس وقت سرفراز کو ہوٹانے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا، جو اپنے لئے کھیلتے ہیں ان کا دروازہ بند کرنے کا کہاہے ، میرا کام پروفیشنل طریقے سے بورڈ چلانا ہے، مالی لحاظ سے ہم بہت بہتر ہیں، ہارنے والا نہیں ہوں ٹریک پر چڑھاونگا۔
چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کیمپ دیکھا، کرکٹ کے معاملات دیکھے، کچھ چیزیں رہتی تھیں ایک دو دن میں بہت چیزیں ملنے والی ہیں، پیر والے دن ٹی ٹونٹی، ون ڈے اور ٹیسٹ کرکٹ سے متعلق بھرپور پالیسی بنائی گئی ہے، بہت دیر سے پلان تھا کہ سنٹرل کنٹریکٹ، کھلاڑیوں کی سلیکشن کمپیوٹر بیسڈ ہو انسانی بنیادوں پر نہ ہو، آنے والے وقت میں بہت فائدہ ہوگا، 85 فیصد تمام چیزیں انسان کے ہاتھ سے نکال دی ہیں، ڈومیسٹک کرکٹ جو کھیلے گا وہی کنٹریکٹ لے گا اور کھیلے گا، کمیٹی بنائی ہے اگر کوئی کھلاڑی بھی کیٹگری میں نہیں اترے گا وہ نہیں کنٹریکٹ کا حصہ نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال بتایا تھا کہ جو کھلاڑی ڈومیسٹک کرکٹ نہیں کھیلے گا اس کو کنٹریکٹ بھی نہیں دیا جائے گا، ٹیسٹ کے ساتھ ون ڈے کیٹگری میں رہ سکتے ہیں لیکن ٹیسٹ کے ساتھ ٹی ٹونٹی کھیلنے والا پلیئر نہیں ہو گا، ون ڈے، ٹی ٹونٹی کے کھلاڑی ہونگے، ایمرجنگ کھلاڑیوں کے لئے بھی کیٹگری بنائی ہے، جو کھلاڑی پیسے افورڈ نہیں کرسکتے انکا خیال رکھیں گے۔
ان کا کہناتھا کہ ٹیسٹ ، ون ڈے اور ٹی ٹوینٹی میچز کی فیسز بڑھا رہے ہیں، تین دروازے ہونگے جو کراس کرینگے تو کھلاڑی ٹیم اور کنٹریکٹ کا حصہ رہے گا، فٹنس، ڈومیسٹک اور کارکردگی جس کھلاڑی کی ہوگی وہی رہے گا، ڈومیسٹک کی میچ فیس بھی بڑھا رہے ہیں، پیر والے دن تمام کھلاڑیوں کی رائے لوں گا اور پھر پیر والے دن فائنل کرینگے، ہر چیز کمپیوٹرائزڈ ہو گی، پندرہ پوائنٹس سلیکشن کمیٹی کے پاس رکھے ہیں، کسی کا نہیں پتا کون ڈومیسٹک کھیلتا کون نہیں کھیلتا ، ڈومیسٹک جو نہیں کھیلے گا وہ کنٹریکٹ پر نہیں آئے گا۔
محسن نقوی کا کہناتھا کہ یونس خان سے ملاقات کررہا ہوں کرکٹ کے مائنڈ کو بڑھا رہے ہیں، کئی ایسی چیزیں ہیں جس نے ہماری ٹیم کو خراب کیا ہے، ہمارا بہت سارے لوگوں سے رابطہ ہے اگلے دنوں میں کرکٹرز کے حلقے کو بڑھائیں گے، سلیکشن میں اپنے ہاتھ میں نہیں لینا چاہتا اور فیصلہ انکا ہی ہوا میری نہیں سنی گئی، میرا کام پی ایس ایل کو مضبوط بنانا اور ڈومیسٹک کو مضبوط بنانا ہے، ایسا بھی وقت آیا جب ہمیں بھی نہیں مل رہے تھے، سرفراز کی تو پہلی سیریز تھی مائیک نے اوور آل زیادہ میچز جیتے ہیں،۔
چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ اس وقت تک سرفراز کو ہٹانے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا، آج بھی ملنا کل بھی اور پرسوں بھی ملنا ہے ، ایک ایک بندے پر چار ذمہ داریاں تھیں، سرفراز ہیڈ کوچ، سلیکشن اور انڈر 19 بھی دیکھ رہا تھا، جو اپنے لئے کھیلتے ہیں ان کا دروازہ بند کرنے کا کہاہے ، میرا کام پروفیشنل طریقے سے بورڈ چلانا ہے، مالی لحاظ سے ہم بہت بہتر ہیں، ہارنے والا نہیں ہوں ٹریک پر چڑھاونگا۔





















