ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ عوام کی توقعات کے مطابق نہیں تھا، سب سے زیادہ ریونیو دینے والے شہر کراچی میں بیس بیس گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہورہی ہے، ترقی کا انجن رکا ہوا ہے لیکن وزیراعظم کی تقریر میں اس شہر کا ذکر تک نہیں آیا۔
تفصیلات کے مطابق فاروق ستار کا کہناتھا کہ اس بجٹ کو بنیاد بنا کر ہم مضبوط معیشت بنا سکتے تھے،کراچی میں 20 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہے،ترقی کا انجن رکا ہوا ہے، اگر کراچی سے برآمدات نہیں بڑھ رہیں تو تو باقی شہروں کا کیا حال ہوگا؟ 60 فیصد ٹیکس اور 54 فیصد ایکسپورٹ کراچی سے ہوتی ہے، 1300 ارب ٹیکس میں 11 سو ارب کراچی سے اکھٹا ہوتا ہے،
انہوں نے کہا کہ طویل عرصے سے کراچی پر ایک کرپٹ حکومت مسلط ہے جس نے پورے شہر میں رشوت کا بازار گرم کررکھا ہے، کراچی میں سڑکیں ٹوٹی ہیں،18 سال سے کرپٹ حکومت قائم ہے، وزیراعظم کی تقریر میں بھی کراچی کا کوئی ذکر نہیں آیا، شہروں کو براہ راست فنڈز دیں،بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے جارہے، بلدیاتی نظام سے لوگوں کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہوں گے، سندھ کے 2100 ارب کراچی سمیت مختلف شہروں کے مئیرز کو دیں۔






















