اسلام آباد ہائیکورٹ نے مصدقہ قانونی وجہ کے بغیر شہری کا بینک اکاؤنٹ بند کرنا خلاف قانون قرار دے دیا۔ مرضی کرنے پر نجی بینک کو تین لاکھ روپے جرمانہ کر دیا گیا، واضح کیا کہ اسٹیٹ بینک ایسا میکنزم بنائے تاکہ کوئی اکاؤنٹ ہولڈر غیر ضروری طور پر متاثر نہ ہو۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے این سی سی آئی اے انکوائری کے دوران اکاؤنٹ ازخود بلاک کرنے کے خلاف کیس کا فیصلہ جاری کر دیا۔ مصدقہ قانونی وجہ کے بغیر شہری کا بینک اکاؤنٹ بند کرنا خلاف قانون قرار دیتے ہوئے کہا کہ بینک نے بلاوجہ کارروائی کرکے اکاؤنٹ بلاک کیا، جس کے باعث شہری کو مجبور عدالت آنا پڑا ۔
درخواست گزار نے بتایا کہ اس کا وکیل اور کیس پر تین لاکھ روپے خرچہ ہوا ۔ عدالت نے فیصلہ دیا کہ بینک ایک ماہ میں تین لاکھ روپے درخواست گزرا کو دے کر رپورٹ جمع کرائے۔ بینک کا طرزعمل بینکنگ اور آئین کے طے شدہ اصولوں کی بھی خلاف ورزی ہے۔ قانون کے مطابق ہی پراپرٹی سے محروم یا مالی آزادی پر پابندی لگائی جاسکتی ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق بینک کی لاپرواہی سے شہری کے ملکیتی حقوق میں مداخلت کی گئی، کسی شخص کو قانونی وجہ کے بغیر اس کی پراپرٹی تک رسائی سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ این سی سی آئی اے نے مانا کہ ہم نے اکاؤنٹ بلاک کرنے کا نہیں کہا تھا، جبکہ بینک نے بھی غلطی تسلیم کی اور کہا ہم نے احتیاطاً اکاؤنٹ بلاک کر دیا تھا۔





















