حکومت نے نئے بجٹ سے پہلے چھوٹے تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم کا اعلان کر دیا ہے ، سالانہ 20 کروڑ روپے یا اس سے کم سیل پر صرف ایک فیصد فکسڈ ٹیکس ادا کرنا ہوگا، نئی اسکیم کے تحت رجسٹرڈ تاجر کی دکان میں ایف بی آر کا کوئی افسر داخل نہیں ہو سکے گا۔
وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ سہولت سے فائدہ اٹھانے کے لیے تین سال میں سالانہ 20 کروڑ روپے سیل ظاہر کرنا لازمی ہے۔ تاجروں کے لیے رضا کارانہ اسکیم یا نارمل ٹیکس رجیم میں سے کسی ایک کا انتخاب ضروری ہے، رجسٹریشن نہ کرانے والے نان فائلر تاجروں کو پہلے ماہ دس ہزار، دوسرے ماہ 25 ہزار اور مستقل رجسٹریشن نہ کرانے پر ماہانہ 50 ہزار روپے جرمانہ عائد ہوگا ۔
انہوں نے کہا کہ نئی اسکیم کے تحت تاجروں کیلئے ایک صفحے کا سادہ فارم بھی تیار کر لیا گیا ،فائلر تاجر کی دکان پر اس کے نام اور این ٹی این نمبر پر مبنی سلیٹ آویزاں ہو گی ،سلیٹ میں شامل کیو آر کوڈ کو سکین کرکے معلومات حاصل کی جا سکیں گی،رجسٹرڈ دکاندار کی دکان میں ایف بی آر کا کوئی افسر داخل نہیں ہوسکے گا ، سہولت سے فائدہ اٹھانے والے چھوٹے تاجروں کا آڈٹ بھی نہیں ہوگا،رجسٹرڈ چھوٹے تاجروں کو پی او ایس سسٹم بھی نصب نہیں کرنا پڑے گا، بڑے معاملے پر تاجروں کا آڈٹ ان کی اپنی کمیٹی کی مشاورت سے ہو سکے گا،فائلر تاجروں کو فائدہ اٹھانے کیلئے 3 سال میں سالانہ 20 کروڑ سیل ظاہر کرنا ہوگی۔
وزیر مملکت نے یہ بھی بتایا کہ رجسٹرڈ چھوٹے تاجروں کی تعداد چھ لاکھ سے بڑھا کر پینتیس لاکھ کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔






















