ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ امریکا سے رابطہ ٹوٹا نہیں، لیکن مذاکرات میں پیشرفت نہیں ہورہی۔
لبنانی میڈیا سے گفتگو میں عباس عراقچی نے کہا کہ امریکا اور ایران حالیہ مسودے کا جائز لے رہے ہیں، اسرائیل نے بیروت پر حملہ کیا تو ایران فیصلہ کن جواب دے گا۔
اس سے قبل ایک بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ ایرانی کی مسلح افواج صرف دفائی کارروائیاں کرتی ہیں، ان اہداف کو نشانا بنایا جاتا ہے جہاں سے امریکا کو حملے کی اجازت دی گئی ہے، کسی بھی جارحیت کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیتے رہیں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ جو مقاصد جنگ اور پابندیوں سے حاصل نہ ہوسکے وہ مستقبل میں بھی حاصل نہیں ہونگے۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کی بات چیت جاری ہے،کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، اسلام آباد مذاکرات کے پہلے دور کی ناکامی کی وجہ ایران کاایٹمی پروگرام پر بات نہ کرنا تھی، لبنان کو نظر انداز کرکے ایران کوئی معاہدہ نہیں کرے گا، تازہ ترین امریکی مسودے پر ایران کا جواب فی الحال واشنگٹن کو نہیں بھیجا گا۔





















