لاہورمیں مبینہ اجتماعی زیادتی اور اسقاط حمل کے بعد گھریلو ملازمہ کی ہلاکت کے کیس میں پولیس نے مقدمے میں دفعہ 302 شامل ہونے کے بعد مالکان کو دوبارہ شامل تفتیش کرنےکا فیصلہ کر لیا۔
پولیس کےمطابق مالکان کو ایک بار دوبارہ شاملِ تفتیش کرنےکا فیصلہ کیاگیا ہےاورانہیں اس حوالے سے نوٹس بھی جاری کر دیے گئے ہیں،اس سےقبل عدالت میں لڑکی کے بیان کے بعد مالکان کو بعض الزامات سے بے گناہ قرار دیا گیا تھا۔
تحقیقات کےمطابق متاثرہ لڑکی نے اپنے بیان میں مالکان کے بیٹے کو نامزد نہیں کیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اسقاط حمل کے تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد لڑکی کی طبیعت خراب ہوئی، جس کے بعد اسے فیصل آباد سے لاہور منتقل کیا گیا۔
پولیس کےمطابق متاثرہ لڑکی کو سروسز اسپتال لاہور میں علاج کے لیے لایا گیا تھا، تاہم بعد ازاں اس کی موت واقع ہوگئی،موت کی اصل وجہ جاننے کے لیے پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
پولیس نے مزید بتایا کہ اگر اسقاط حمل کے لیے کیے گئے مبینہ آپریشن میں کسی نجی اسپتال یا عملے کی غفلت ثابت ہوئی تو ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی
ایک ملزم پہلے ہی جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوایا جا چکا ہے۔ قتل کی دفعہ شامل ہونے کے بعد کیس کو جینڈر سیل سے منتقل کر کے انویسٹیگیشن ونگ کےحوالے کر دیا گیا ہے، اورمکمل رپورٹ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کو ارسال کر دی گئی ہے۔






















