عالمی موسمیاتی ادارے نےخبردارکیا ہےکہ 2026 کےاختتام پرال نینوسسٹم دوبارہ شدت اختیارکرسکتا ہے،جبکہ2027 انسانی تاریخ کا سب سے زیادہ گرم سال ثابت ہوسکتا ہے۔
اقوام متحدہ کےموسمیاتی ادارے ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن کی تازہ رپورٹ نے عالمی درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے سے متعلق خطرے کی نئی گھنٹی بجا دی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ماہرین کا کہنا ہےکہ 2026 سے 2030 کےدرمیان زمین کا اوسط درجہ حرارت مسلسل بلند رہنےکا امکان ہےجبکہ اس دوران ایک ایسا سال بھی آسکتا ہے جوگزشتہ تمام گرمی کے ریکارڈ توڑ دے،رپورٹ میں امکان ظاہرکیاگیا ہےکہ 2027 اس فہرست میں سرفہرست ہو سکتا ہے۔

ماہرین کےمطابق صنعتی دورسےپہلےکےمقابلےمیں عالمی درجہ حرارت خطرناک حد 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپرجانے کےامکانات تیزی سےبڑھ رہے ہیں،یہی وہ حدہےجسےدنیا نےپیرس ماحولیاتی معاہدے میں موسمی تباہی سے بچنے کے لیے اہم قرار دیا تھا۔

رپورٹ میں انکشاف کیاگیا ہےکہ گزشتہ برسوں میں زمین مسلسل گرم ہوتی جا رہی ہے اور 2015 کے بعد سےاب تک تقریباً تمام سال شدید ترین گرمی کےریکارڈ میں شامل ہوچکےہیں،اقوام متحدہ کے ماہرین کےمطابق آئندہ پانچ برسوں میں 86 فیصد امکان موجود ہےکہ کوئی ایک سال 2024 کوبھی پیچھے چھوڑ دے گا۔
ماہرین نےخبردارکیا ہےکہ 2026 کے اختتام پرال نینو سسٹم دوبارہ شدت اختیارکرسکتا ہےجس کے اثرات 2027 میں پوری دنیا کو شدید گرمی،طوفانوں، خشک سالی اور غیر متوقع بارشوں کی صورت میں متاثر کرسکتے ہیں۔





















