امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نےدعوی کیا ہے کہ امریکا اور ایران معاہدے کے قریب ہیں،ایران نے یقین دہانی کرائی ہےکہ وہ ایٹمی ہتھیارخریدےگا بھی نہیں۔
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا ہم نے ایرانی فوج کے مکمل ڈھانچے کو نشانہ نہیں بنایا، ایرانی فوج کا ایک حصہ نسبتاً “اعتدال پسند” ہے
امریکی نیوزویب سائٹ ایگزیوس نےدعویٰ کیاہےکہ صدر ٹرمپ ایران کےساتھ جلد معاہدہ کرنے کے خواہاں ہیں،انہوں نےایران کےجوہری پروگرام سےمتعلق شرائط مزیدسخت کردی ہیں،وہ ایران سےمتعلق اپنی طے شدہ ریڈ لائنز پر قائم ہیں،امریکا ایسامعاہدہ چاہتا ہےایران دوبارہ ایٹمی ہتھیارحاصل نہ کرسکے۔
ایگزیوس کےمطابق صدرٹرمپ آبنائےہرمزکودوبارہ کھولنےسےمتعلق بعض شقوں میں تبدیلی چاہتے ہیں، ٹرمپ کو آگاہ کیا گیا ہے ایرانی جواب موصول ہونےمیں تقریباً 3 دن لگ سکتےہیں،ایران کےساتھ معاہدہ ضرورہوگا لیکن حتمی وقت طےنہیں،صدرٹرمپ معاہدےکیلئےایک ہفتہ یا اس سےزیادہ انتظارکرسکتے ہیں ،انتظار کرنےکا مقصد تمام طے شدہ شرائط کو پورا کرنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی میڈیارپورٹ کےمطابق مجوزہ ایران امریکا سمجھوتےمیں آبنائے ہرمز پر ایران کو زیادہ اختیارات ملنےکا امکان ہے،ایران کوجہازوں کی درجہ بندی،تلاشی اورپابندیوں کا اختیارمل سکتا ہے،امریکا 60 روز میں 12 ارب ڈالر کےمنجمد ایرانی اثاثے بحال کرنےمیں مدددے گا،آبنائے ہرمزسےمتعلق نئےانتظامی اختیارات مسودے کا حصہ ہیں،ایران امریکا مجوزہ معاہدے کا متن ابھی حتمی نہیں، مذاکرات جاری ہیں۔
اُدھر ایران نےایک اور امریکی ڈرون گرانے کا دعویٰ کیا ہے،کہا ہے کہ امریکی ایم کیو ون کو ایرانی حدود میں داخل ہونے پر مارگرایا،امریکی ڈرون حساس مقامات کی جاسوسی کررہاتھا۔





















