ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے بیان جاری کرتے ہوئے کہاہے کہ ایران اور امریکا کی توجہ مفاہمتی یادداشت کو حتمی شکل دینے پر مرکوز ہے، گذشتہ ایک ہفتے میں دونوں طرف کے خیالات کافی حد تک قریب آئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق اسماعیل بقائی کا کہناتھا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے تیار مفاہمتی یادداشت میں 14 نکات شامل ہیں،تفصیلی امور پربات چیت اگلے 30 سے 60 دن کے اندر کی جائے گی،واشنگٹن کے ساتھ جوہری معاملے پر سابقہ رویے، معاہدے سے دستبرداری کے باعث نظرانداز نہیں کر سکتے،ماضی کے منفی تجربات کی وجہ سے مختصر مدت میں حتمی نتیجے کی توقع ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں انتظار کرنا ہو گا اور دیکھنا ہو گا کہ آئندہ تین سے چار دنوں میں کیا ہوتا ہے،امریکا کے ساتھ جاری ثالثی کے عمل میں وقت درکار ہے،امریکا کے ساتھ کچھ نکات پر اب بھی اختلاف موجود ہیں جن پر بات چیت ہوئی،پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو سراہتے ہیں۔
اسماعیل بقائی نے کہا معاہدے کے حتمی متن سے متعلق پاکستانی وفد جمعہ کو تہران پہنچا،امریکا اور ایران کے درمیان حتمی متن کا جائزہ لیا جارہا ہے،منجمد ایرانی فنڈز کا اجرا مسودے کے متن میں شامل کیا جائے گا،ایران لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ چاہتا ہے،ہم ایک مسودے کے قریب ہیں۔





















