پنجاب کیٹل مارکیٹ مینجمنٹ اینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین محمد ابراہیم طارق شفیع نے عیدالاضحیٰ مویشی منڈیوں سے متعلق مالی بے ضابطگیوں کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے آڈٹ اعتراض کو کمپنی کے کنٹریکٹنگ ماڈل سے متعلق غلط فہمی قرار دے دیا۔
یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی جانب سے مالی سال 2022-23 کی آڈٹ رپورٹ میں مبینہ بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے 83 کروڑ 92 لاکھ روپے کی ریکوری کی سفارش کی گئی تھی۔
آڈٹ پیرا کے مطابق عیدالاضحیٰ کے دوران تقریباً 10 روز کیلئے مویشی منڈیوں میں کاروباری سرگرمیوں میں غیرمعمولی اضافہ ہوتا ہے، اس لیے سوال اٹھایا گیا کہ آیا کنٹریکٹرز سے سالانہ معاہدے کے علاوہ اضافی رقم وصول کی جانی چاہیے تھی یا نہیں۔
چیئرمین محمد ابراہیم طارق شفی نے ان الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مویشی منڈیاں سالانہ بنیادوں پر آؤٹ سورس کی جاتی ہیں اور یہ معاہدے پورے سال کی تمام سرگرمیوں کا احاطہ کرتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ سالانہ کنٹریکٹس میں موسمی رش، خصوصی ایونٹس اور عیدالاضحیٰ کے دوران ہونے والی اضافی سرگرمیاں پہلے ہی شامل ہوتی ہیں، لہٰذا عید کے دنوں کیلئے کنٹریکٹرز سے الگ یا اضافی ادائیگیاں قانونی اور معاہداتی طور پر وصول نہیں کی جاسکتیں۔
چیئرمین کے مطابق غیر ادا شدہ یا قابلِ وصول رقوم سے متعلق الزامات کمپنی کے پروکیورمنٹ اور آؤٹ سورسنگ فریم ورک سے مطابقت نہیں رکھتے۔
انہوں نے کہا کہ بولی کے عمل میں پورے سال کی آمدنی کی صلاحیت کو مدنظر رکھا جاتا ہے، جس میں عیدالاضحیٰ جیسے مصروف ادوار بھی شامل ہوتے ہیں جہاں مویشی منڈیوں میں قدرتی طور پر کاروباری سرگرمیاں بڑھ جاتی ہیں۔
محمد ابراہیم طارق شفی نے مزید بتایا کہ یہ معاملہ جلد پبلک اکاونٹس کمیٹی میں زیر بحث آئے گا جہاں آڈٹ اعتراضات اور متعلقہ محکموں کے مؤقف کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ پارلیمانی نگرانی کے عمل میں کمپنی کا مؤقف مکمل طور پر واضح اور تسلیم کرلیا جائے گا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ عیدالاضحیٰ مویشی منڈیوں کے انتظامات میں کروڑوں روپے کی مالی بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں، جن میں قومی خزانے کو نقصان اور منڈیوں کے آپریشن میں غیرقانونی توسیع جیسے الزامات شامل تھے۔
تاہم کمپنی نے ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ تمام آپریشنز منظور شدہ معاہدوں کے تحت انجام دیے گئے۔























