امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پروجیکٹ فریڈم کو دوبارہ بڑے پیمانے پر شروع کرنے پر غور کررہا ہوں، ابھی پروجیکٹ کے دوبارہ آغاز کا حتمی فیصلہ نہیں کیا۔
تفصیلات کے مطابق صدر ٹرمپ کا کہناتھا کہ ایران میں سخت گیر قیادت کو جھکنے پر مجبور کروں گا،ایران نے ہم سے افزودہ یورینیم کو نکالنے کی درخواست کی ہے،ایران کے پاس ایٹمی مواد کو نکالنے کی ٹیکنالوجی نہیں ہے، ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، ایران میں داخل ہوکر جوہری مواد ملبے سے کیسے نکالیں معلوم نہیں، ہم یہ معاملہ مزید مذاکرات کے لیے چھوڑ رہے ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر نے وائٹ ہاوس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے حوالے سے بات چیت کیلئے جنرلز میرا انتظار کررہے ہیں، ایران کی ناکہ بندی ایک عظیم ملٹری منصوبہ ہے، ایرانی حکومت نے 42 ہزار مظاہرین کو قتل کیا،ہم ایران پر حملہ نہ کرتے تووہ مشرق وسطی، یورپ کو تباہ کرتے، ایران ایٹمی مواد کو ہمارے حوالے کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، ان کے پاس ایٹمی مواد ملبے سے نکالنے کی مشینری نہیں ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایسی مشینری امریکا اورچین کے پاس ہے۔
ان کا کہناتھا کہ ایران نے اپنے خط میں جوہری ہتھیار نہ بنانے کا ذکر نہیں کیا، ایران امریکا سے اتفاق کرتا ہے، پھر مؤقف سے پیچھے ہٹ جاتا ہے، جنگ بندی انتہائی نازک حالت میں ہے،کردوں نے مجھے بہت مایوس کیا ہے، چینی صدر کا بہت احترام کرتا ہوں، امید ہے وہ بھی کریں گے۔





















