فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قائدانہ صلاحیتوں اور ملٹری ڈپلومیسی کا عالمی سطح پر اعتراف کا سلسلہ جاری ہے۔ بین الاقوامی جریدے نے ایران امریکہ مذاکرات میں کردار کو اہم قرار دے دیا۔ علاقائی امن کیلئے کاوشوں کو عالمی پذیرائی حاصل ہوئی۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قائدانہ صلاحیتوں، کامیاب ملٹری ڈپلومیسی اور عالمی امن کیلئے کاوشوں کا دنیا بھر میں اعتراف کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اپنی مؤثر شخصیت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے باعث عالمی عسکری قیادت میں نمایاں مقام حاصل کر چکے ہیں۔
بین الاقوامی جریدے ایل پائس نے امریکہ ایران مذاکرات میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے بطور ثالث کردار کو انتہائی اہم اور کلیدی قرار دیا ہے۔ جریدے کے مطابق مئی دوہزارپچیس کی پاک بھارت جنگ میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایک فاتح اور بہادر فوجی راہنما کے طور پر ابھرے۔
ایل پائس کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایک بااثر شخصیت ہیں اور امریکہ ایران سیز فائر میں ان کا کردار غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ جریدے نے لکھا کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی امریکی صدر نے کسی ایسے پاکستانی فوجی سربراہ کی میزبانی کی جو سربراہِ مملکت نہیں تھا۔
رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو غیر معمولی، بہادر اور عظیم جنگجو قرار دیا جبکہ ایران امریکہ مذاکرات میں بھی وہی بطور ثالث بات چیت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ ایل پائس کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اُن چند عالمی شخصیات میں شامل ہیں جو بیک وقت امریکہ اور ایران دونوں کے ساتھ مؤثر پیغام رسانی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔





















