ترجمان پاسدارن انقلاب کے مطابق فجیرہ میں تیل تنصیبات پر حملے کا کوئی پہلے سے طے شدہ منصوبہ نہیں تھا، فجیرہ بندرگاہ پر جو کچھ ہوا وہ امریکی فوج کی مہم جوئی کا نتیجہ تھا۔
ترجمان کے مطابق امریکا آبنائے ہرمز کے ذریعے غیرقانونی جہازوں کی آمدورفت کیلئے راستہ بنانا چاہتا تھا، مزید حملے ہوئے تو ایران اہم تنصیبات کو نشانہ بنائے گا۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یو اے ای ایران پر حالیہ حملوں میں ملوث ہے، متحدہ عرب امارات کیخلاف کارروائی جوابی ردعمل تھا، مزید حملے ہوئے تو ایران اہم تنصیبات کو نشانہ بنائے گا۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارت نے میزائل اورڈرون حملوں کی تفصیلات جاری کردیں، ترجمان اماراتی وزات دفاع کے مطابق یو اے ای پر12 بیلسٹک3کروز میزائل اور4ڈرون سے حملہ کیا گیا، ایرانی حملوں میں3افرادمعمولی زخمی ہوئے۔
دوسری جانب خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق فجیرہ میں ایران کے ڈرون حملے کے بعد ایک پیٹرولیم صنعتی مقام پر آگ بھڑک اٹھی۔ عرب میڈیا کے مطابق دبئی اور شارجہ کے ایئرپورٹس پر فلائٹ آپریشن عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔





















