وزیراعظم شہبازشریف نے ون-کانسٹیٹیوشن ایونیو سے متعلق معاملے کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم کر دی ہے۔
اعلامیے کے مطابق کمیٹی وزیرِ قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ کی سربراہی میں تشکیل دی گئی ہے، جبکہ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری ، سیکرٹری کابینہ اور سیکرٹری تجارت بھی کمیٹی کے ارکان ہوں گے۔
کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایک ہفتے کے اندر معاملے کا تفصیلی جائزہ لے کر جامع رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اس معاملے سے متاثرہ کوئی بھی شخص اپنی معروضات کمیٹی کے سامنے پیش کر سکے گا، جبکہ کمیٹی بلا تفریق تمام فریقین اور متاثرین کو سنے گی۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ حتمی فیصلے تک اس معاملے میں کسی بھی قسم کی کارروائی عمل میں نہیں لائی جائے گی۔
یاد رہے کہ رات گئے پولیس کے ذریعے عمارت کو خالی کرانے کے احکامات دیے گئے۔ سی ڈی اے نے2005 میں 13 ایکٹر پر مشتمل زمین لگژری ہوٹل کیلئے99 سالہ لیز پر ایک کمپنی کو دی تھی۔
ذرائع کے مطابق ون کانسٹیٹیوشن ایونیو عمارت میں اہم سیاسی شخصیات، بیوروکریٹس کےفلیٹس بھی ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ نے بلڈنگ کی لیز منسوخی کے سی ڈی اے کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے لیز منسوخی کے خلاف درخواستیں خارج کر دی تھیں۔






















