ایران امریکا جنگ بندی ختم ہونے میں صرف 24 گھنٹے باقی رہ گئے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ممکنہ سفارتی عمل کے سلسلے میں نائب صدر جے ڈی وینس آج اسلام آباد روانہ ہورہے ہیں لیکن ایران کی طرف اب تک گرین سگنل نہیں ملا، صدر ٹرمپ معاہدے کیلئے پرامید تو ہیں لیکن مسلسل دھمکیاں بھی دے رہے ہیں۔
امریکی ریڈیو سے گفتگو میں امریکی صدر نے کہا ایران کے ساتھ جنگ بندی کی مدت بدھ کی شام ختم ہورہی ہے اگر کسی معاہدے تک نہ پہنچا گیا تو سیزفائر میں توسیع کا امکان بہت کم ہے ۔ ایران کو ہر صورت مذاکرات کی میز پر آنا ہوگا اور اگر تہران نے انکار کیا تو اسے ایسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا جو اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھے ہوں گے ۔ بہت زیادہ بم گریں گے ۔
صدر ٹرمپ کا اصرار ہے کہ وہ ایران کے ساتھ ایک منصفانہ معاہدہ چاہتے ہیں، یہ ڈیل سابق امریکی صدر باراک اوباما سے بہت بہتر ہوگی جس کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہوگا ۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا بریک تھرو ہوا تو ایرانی قیادت سے ملاقات کرنا چاہوں گا، ایران پر مجبورا حملہ کیا، ہم نے اچھا کام کیا اور جلد معاملہ مکمل کر لیں گے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے مطابق مجوزہ معاہدہ عالمی امن کے لیے اہم پیش رفت ہو سکتا ہے، امریکا کسی ایسے معاہدے میں نہیں جائے گا جو اس کے لیے نقصان دہ یا تباہ کن ڈیل ثابت ہو۔




















