ایرانی نائب صدر رضا عارف کا کہنا ہے کہ تیل کی آزاد مارکیٹ یا تو سب کیلئے ہوگی یا کسی کیلئے نہیں۔
ایک پیغام میں ایرانی نائب صدر نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی سکیورٹی مفت دستیاب نہیں ہے، ایرانی تیل ایکسپورٹ روکتے ہوئے دوسروں کے لیے سکیورٹی کی توقع نہیں کی جاسکتی۔
دوسری جانب ایران نے صاف کہہ دیا ہے کہ دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات قبول نہیں ہے۔ صدر ٹرمپ مذاکرات کی ٹیبل کو ہتھیار ڈالنے کی میز بنانا چاہتے ہیں۔
ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات قبول نہیں کریں گے، بات چیت صرف برابری اور احترام کی بنیاد پر ممکن ہے، امریکی دباؤ اور دھمکیاں مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ ایران نے امریکی مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں نئے آپشنزکا عندیہ بھی دیدیا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق تجارتی جہاز توسکا پر حملہ سمندری قزاقی اور دہشتگردی ہے، جہاز پر حملہ اور عملے کو حراست میں لینا ناقابلِ قبول ہے، امریکا جہاز پر سوار عملے کو فوری رہا کرے۔ امریکا خطے میں بگڑتی ہوئی صورتحال کا مکمل ذمہ دار ہے، ایران اپنے قومی مفادات اور سلامتی کےلیے تمام صلاحیتیں استعمال کرے گا۔





















