سینئرسیاستدان اور سابق گورنر پنجاب سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ طویل علالت کے بعد اکانوے برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ مرحوم نے نواز شریف کی جلاوطنی کے دوران بطور صدر مسلم لیگ پنجاب جمہوریت کی بحالی کیلئے جدوجہد کی۔
پنجاب، بلوچستان اور سندھ میں پھیلے بلوچ قبیلے کے اکیس ویں تسلیم شدہ سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ طویل علالت کے بعد 91 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔
بیس اکتوبر 1935 کو ڈی جی خان میں پیدا ہونے والے سردار ذوالفقار علی کھوسہ نے ابتدائی تعلیم1941 سے 1946 کے دوران کوئین میری کالج لاہور سے حاصل کی۔ وہ 1946 سے 1954 تک ایچی سن کالج لاہور میں زیر تعلیم رہے۔
چھبیس سال کی عمر میں 1962 کو مغربی پاکستان اسمبلی کے رکن منتخب ہونے والے سردار ذوالفقار کھوسہ ایوان کےسب سےکم عمر رکن تھے۔ مرحوم مسلسل 9 مرتبہ پنجاب اسمبلی کے رکن بھی منتخب ہوئے۔ وہ سینئر وزیر، وزیراعلیٰ پنجاب کے سینئر مشیر، وزیر تعلیم، آبپاشی اور بجلی، سی اینڈ ڈبلیو، فنانس، پی اینڈ ڈی، لوکل گورنمنٹ اور دیہی ترقی بھی رہے۔
ذوالفقار کھوسہ پنجاب کے گورنر بھی رہے، وزیراعظم نوازشریف کی معزولی کے وقت پنجاب کے گورنر بھی رہے۔
سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ کے 3 بیٹے ہیں اور ان کا سب سے چھوٹے بیٹے سردار دوست محمد خان کھوسہ وزیر اعلیٰ پنجاب اور بعدازاں پنجاب کابینہ میں وزیر بھی رہے۔
وفاقی وزیرمواصلات عبدالعلیم خان نے سابق گورنرپنجاب ذوالفقار علی کھوسہ کے انتقال پر اظہار افسوس کیا ہے۔ اپنے تعزیتی پیغام میں کہا سردارذوالفقار علی کھوسہ نے ملکی سیاست میں اہم کردار ادا کیا۔ ملک و قوم کے لئے ذوالفقارعلی کھوسہ کی خدمات کوہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام اور غمزدہ خاندان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔






















