بالائی علاقوں میں برسات تو تھم گئی،تاہم اس کی تباہ کاریاں جاری ہی،بارش کے باعث بوسیدہ مکانات کی چھت گرنے سے بچے سمیت تین افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے،25مارچ سےاب تک مختلف حادثات میں 45 افراد جاں بحق،105زخمی ہوئے۔
پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق مختلف حادثات میں جاں بحق افرادمیں23بچے اور5خواتین شامل ہیں،زخمی افراد میں 16 خواتین اور45 بچےشامل ہیں،حالیہ بارشوں سے442گھروں کونقصان جبکہ60گھر مکمل طورپرمنہدم ہوئے،حادثات بنوں،ایبٹ آباد،مردان،باجوڑ،ہنگو،مہمند،کوہاٹ،شمالی وزیرستان، پشاور، خیبر،نوشہرہ میں پیش آئے۔
صوابی کےعلاقے یارحسین میں بارش کے باعث گھرکی چھت گرگئی،ملبےتلےدب کر بچہ جاں بحق جبکہ بچےسمیت تین خواتین زخمی ہوگئیں،خیبر کےعلاقے چورا میں بھی کچےمکان کی چھت زمین بوس ہو گئی،دو خواتین جان سے گئیں،دوزخمی بچوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا،لنڈی کوتل کے علاقےخوگہ خیل گونگی کلی میں بھی کمرے کی چھت گرگئی,ملبےتلے دب کر دو بچیاں زخمی ہوگئیں۔
دوسری جانب جنوبی وزیرستان میں لینڈسلائیڈنگ کے باعث بند وانا گومل زام روڈ چار روز بعد بھی بحال نہ کی جاسکی،جس کے باعث مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے,ضلعی انتظامیہ کے مطابق سڑک کی بحالی کے لیےہیوی مشینری سےکام جاری ہے،جبکہ ٹریفک کو جنڈولہ روڈ سے گزارا جارہا ہے۔
مری میں بھی جھیکاگلی چوک ری ماڈلنگ پراجیکٹ لینڈسلائڈنگ کی نذرہونےلگا،متعدد گھروں کی دیواروں، چھتوں اور برآمدوں میں بڑےشگاف پڑگئے،درجنوں درخت گرگئے،انتظامیہ نےمتاثر علاقے کو خالی کرنے کا حکم دےدیاگیا،مساجد میں بھی اعلانات ہونے لگے،متاثرین نےسامان سمیت ایمرجنسی نقل مکانی شروع کردی۔
بالائی وادی نیلم کےگاؤں مرناٹ میں شدید بارش کے باعث دس سےزائد رہائشی مکانات لینڈ سلائڈنگ کی زدمیں آگئے،مزید بارش کی صورت میں مکانات لینڈ سلائیڈنگ کےنذرہونےکا خدشہ ہے،علاقہ مکینوں کے مطابق لینڈ سلائیڈنگ سڑک تعمیر کیلئےزمینی کٹاؤکی وجہ سے شروع ہوئی۔
پی ڈی ایم اے کےمطابق صوبےکےمختلف اضلاع میں بارشوں کا نیا سلسلہ 6 اپریل سے9اپریل تک جاری رہنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب بلوچستان ژوب کےعلاقےکاکڑخراسان میں بارش کے باعث مکان کی چھت گرگئی،ملبے تلے دب کر تین بچے جان سے گئے۔






















