عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے توانائی شعبے میں سبسڈی میں نمایاں کمی پر زور دیا ہے۔
پاکستان اورآئی ایم ایف کےدرمیان اسٹاف لیول معائدے کےتحت توانائی شعبےمیں سبسڈی میں بتدریج کمی پراتفاق ہوگیا،آئی ایم ایف کےمطالبے پراگلےمالی سال توانائی شعبےمیں سبسڈی 1186 ارب سے کم کرکے 830 ارب مقرر کرنے کی تجویز ہے۔
سبسڈی صرف زرعی ٹیوب ویلز، قبائلی علاقوں کے واحبات تک محدود رکھنے کی تجویز ہے۔ اس کے علاوہ آئی ایم ایف کو بجلی اور گیس ٹیرف میں بھی بروقت ایڈجسٹمنٹ کی یقین دیہانی دیہانی بھی کرائی گئی ہے۔
آئی ایم ایف نے بجلی کےشعبےمیں گردشی قرضے پرقابو پانے،بجلی چوری اور لائن لاسز میں کمی لانے پر بھی زور دیا گیا ہے,حکومت نے بجلی کی تقسیم کارکمپنیوں کی نجکاری کا پلان شیئر کر دیا ہے۔اگلے مالی سال گردشی قرضے کا بہاو صفر پر لانے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے جبکہ آئی ایم ایف نے مالی سال 2031 تک پاور سیکٹر گردشی قرض کو مکمل ختم کرنے پر زور دیا ہے۔
حکام کےمطابق حکومت کی توانائی کےشعبے کی بہتری اوراصلاحاتی پیکیج پرکام کر رہی ہے,حکومت نے آئی ایم ایف سے بجلی اور گیس سیکٹر میں ریکوری بہتر بنانے کا وعدہ کیا گیا ہے،بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری یا نجی انتظام میں منتقلی 2027 کے اوائل تک متوقع ہے۔




















