ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیاہے کہ ایران نے انسانی بنیادوں پر آبنائے ہرمز سے سامان کی ترسیل کی اجازت دے دی ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق بنیادی ضرورت کی اشیا اور انسانی امداد لے جانے والے جہازوں کو اجازت نامے جاری کر دیئے گئے،ایرانی بندرگاہوں یا بحیرہ عمان میں موجود جہازوں کو آمد و رفت کی اجازت ہوگی۔
دوسری جانب نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ کی وضاحت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ میرے عزیز بھائی،آپ کی وضاحت کی دل سے قدر کرتا ہوں۔
ایرانی وزیر خارجہ
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے مذاکرات کیلئے پاکستان جانے سے کبھی انکار نہیں کیا، ہم امن کی کوششوں کیلئے پاکستان کے شکر گزار ہیں،امریکی میڈیا پر ایرانی موقف کو غلط انداز میں پیش کیا جارہا ہے، ہمیں غیر قانونی جنگ کے حتمی اور پائیدار خاتمے کی شرائط کی فکر ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے پیغام کے آخر میں پاکستان زندہ باد لکھ دیا۔
انہوں نے کہا کہ یوکرین کے جوہری بجلی گھر پر مغرب کا شدید ردعمل کسی کو یاد ہے،امریکا اور اسرائیل بوشہر جوہری پاور پلانٹ پر 4 بار حملہ کرچکے ہیں،تابکاری پھیلی تو تہران نہیں بلکہ خلیجی ممالک میں زندگی کا خاتمہ کرے گی،ہمارے پیٹروکیمیکل مراکز پر حملے بھی اصل مقاصد کو ظاہر کرتے ہیں۔





















