مصنوعی ذہانت عام زندگی کے ساتھ ساتھ جنگوں میں بھی اپنی جگہ بنا رہی ہے۔ امریکی فوج نے خود ایران کے خلاف حالیہ جنگ اور وینزویلا میں صدر مادورو کی گرفتاری کیلئے اے آئی کے استعمال کی تصدیق کی۔ ماہرین کا کہنا ہے جنگ کے دوران زندگی اور موت کے فیصلے مشینوں سے کروانا سنگین المیے کا باعث بن سکتا ہے۔
جدید جنگ اب صرف ہتھیاروں کی نہیں رہی یہ ڈیٹا، الگوریتھم اور مصنوعی ذہانت کی جنگ بن چکی ہے، امریکی فوج نے ایران کے خلاف جنگ میں جدید اے آئی ٹولز کے استعمال کی تصدیق کی۔
وینزویلا میں بھی امریکی فوج نے تیز ترین آپریشن کیلئے اے آئی کا استعمال کیا تھا، جو سیٹلائٹ، ڈرون اور دیگر ڈیٹا کا چند سیکنڈ میں تجزیہ کر لیتے ہیں۔ اے آئی کی مدد سے اہداف کی شناخت اور حملوں کے فیصلے کی رفتار کئی گنا بڑھ گئی ہے لیکن یہی رفتار خطرات بھی پیدا کر رہی ہے۔ الگورتھم کی غلطی سے شہری ہلاکتوں کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے زندگی اور موت کے فیصلے مشینوں کے سپرد نہیں کیے جاسکتے، میدان جنگ سے باہر پروپیگنڈے کیلئے بھی مصنوعی ذہانت کا بھرپور استعمال کیا جاتا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کئی دن منظر سے غائب رہنے کے بعد ویڈیو پیغام جاری کیا لیکن جلد ہی معلوم ہوا کہ وہ مصنوعی ذہانت سے بنائی گئی ویڈیو تھی۔
سوال اب یہ نہیں کہ اے آئی جنگ میں استعمال ہوگی یا نہیں اصل سوال یہ ہے کہ اس طاقتور ٹیکنالوجی کو انسانیت کے اصولوں کے تحت کیسے قابو میں رکھا جائے۔





















