سلیکشن کمیٹی نے ورلڈکپ میں ناکامی کا دفاع کرتے ہوئےکہا سیمی فائنل نہ کھیلنا اتنا بڑا ایشو نہیں ہے۔
رکن سلیکشن کمیٹی عاقب جاوید کی دیگراراکین کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا ایوریج کی وجہ سے سیمی فائنل نہیں کھیل سکے،سپرایٹ میں ایک میچ ہارے،ایک میں بارش ہوگئی،ایوریج کی وجہ سے سیمی فائنل نہ کھیل سکے،بابراعظم اورفخر زمان فٹ نہیں، انکوائری کرائیں گےکہ کیا دونوں کھلاڑی ورلڈکپ کے دوران بھی ان فٹ تھے۔
بابراعظم اگرپندرہ کےاسکواڈمیں ہےتوکوچ اورکپتان دیکھیں اس کوکھیلاناہےیانہیں،بابراعظم اگرپندرہ میں چلاگیاتو یہ وجہ نہیں کہ ورلڈکپ ہارگئے،پاکستان جتنی تبدیلیاں کہیں نہیں ہوتیں،ہرناکامی کے بعد تبدیلیوں کامطالبہ زیادتی ہے،پلیئنگ الیون میں سلیکشن کمیٹی کی کوئی مرضی نہیں،سب سےبڑی غلطی ٹاپ مینجمنٹ سےنیچےتک ہوئیں،جتنی تبدیلیاں ہم نےکی وہ کسی نےنہیں کیں،مجرم قرار دے کر چھوڑنے والی پالیسی سےآگےبڑھناہوگا۔
عاقب جاوید نےمزیدکہا پورےورلڈکپ میں صرف بمراہ ایک مختلف بولرہے،تمام ٹیموں کاایک بولربتادیں جس میں وقار یونس یا وسیم اکرم کی جھلک آئے، جوشاٹ آج لگتی ہےوہ پہلے نہیں ہوتی تھی،نوےکی دہائی کی کرکٹ کاآج کی کرکٹ سےکوئی لینادینانہیں،آج سے30سال پہلےوالوں کوکیوں یادکرتےہیں کیونکہ کھیلتےوہی تھے۔
شاہدآفریدی ملےگاتوپوچھ لوں گامیں سوشل میڈیاسےڈرتا ہوں یانہیں،میں واحدنہیں جوکسی کوسلیکٹ کرتایاڈراپ کرتا ہوں،ہمارےپاس کوئی چیف سلیکٹرنہیں ہے،ٹیم کو سلیکشن کمیٹی سلیکٹ کرتی ہے، بابراعظم کوکھیلناچاہیےیانہیں،6لوگ یہ فیصلہ کرتےہیں،واحدشخص کہیں نہ کہیں یک طرفہ ہو سکتا ہے، سلیکشن کمیٹی نہیں ہوسکتی،نہ میں اکیلا کسی کوسلیکٹ کرسکتا،نہ نکال سکتاہوں۔
سرفراز احمد نےکہا جب ہم کھیلتےتھےوہ وقت گزرگیا،میرااورسلمان علی آغاکاکپتانی کاطریقہ الگ ہے، کرکٹ کھیلنی ہےتوکوئی دوست نہیں ہوتا،شاہین آفریدی کوبہت غصہ آتاہے،ہرکسی کی اپنی نیچرہوتی ہے، کوئی دوست ملک بھی ہو،خوشی سےچھکاکھالیں ایسانہیں ہوتا۔




















