علاقائی کشیدگی کے باعث تیل کی بڑھتی قیمتوں اور سپلائی کی صورتحال پر حکومت متحرک ہو گئی ہے ، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا پندرہ دن کے بجائے ہفتہ وار جائزہ لینے اور دفاتر میں دو دن ورک فرام ہوم کی تجاویز زیر غورآئیں
علاقائی کشیدگی کے باعث تیل کی بڑھتی قیمتوں اور سپلائی کی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں مختلف آپشنز پر غور کیا گیا جبکہ توانائی کی بچت کیلئے قومی ایکشن پلان کی تیاری بھی شروع کر دی گئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کرونا دور کی طرز پر آن لائن اور اسمارٹ آفس ورکنگ کے آپشنز پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں کارپوریٹ سیکٹر، ٹیلی کام اور آئی ٹی کمپنیوں میں ہفتے میں دو دن آن لائن خدمات دینے کی تجویز زیر غور ہے۔
ذرائع کے مطابق مارچ دو ہزار چھبیس کے دوران دفاتر میں صرف ضروری عملہ رکھنے اور کم از کم اسٹاف کی موجودگی کو یقینی بنانے کی تجویز بھی زیر غور ہے جبکہ تعلیمی اداروں میں آن لائن سیشن کے امکان پر بھی غور شروع کر دیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تیل کی فراہمی برقرار رکھنے کیلئے سعودی عرب سے متبادل روٹ کے ذریعے سپلائی کی درخواست بھی کی گئی ہے جبکہ حکومت آئل کمپنیوں کو اضافی اخراجات کی ادائیگی کے معاملے پر بھی غور کرے گی۔





















