ایران کی اعلیٰ ترین قیادت سے متعلق ایک غیر معمولی دعویٰ سامنے آیا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملے میں شہید ہونے والے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کر لیا گیا ہے تاہم اس خبر کی تاحال ایرانی سرکاری حلقوں کی جانب سے کوئی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔
ایرانی میڈیا نے پاسداران انقلاب کے حوالے سے خبر دی ہے کہ سپریم لیڈر کے انتخاب کے لیے مجلس خبرگان کا اجلاس جاری ہے اور نئے سپریم لیڈر کے انتخاب میں تقریباً ایک ہفتہ لگ سکتا ہے۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ ایران کی مذہبی و سیاسی قیادت کے اندرونی مشاورتی عمل کے بعد سامنے آیا، لیکن سرکاری ذرائع خاموش ہیں جس کے باعث صورتِ حال غیر واضح ہے۔
قبل ازیں ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ آیت اللہ خامنہ ای کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور صحت مند ہیں۔ وہ ملک کے اہم امور بھی دیکھ رہے ہیں۔ غیر ملکی میڈیا نے آیت اللہ خامنہ ای کے ساتھ ان کے صاحبزادے کی بھی شہادت کا دعویٰ کیا تھا۔
یاد رہے کہ ہفتے کے روز اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر مشترکہ حملہ کیا اور متعدد مقامات پر شدید بمباری کی جس دوران آیت اللہ خامنہ ای کے دفتر پر بھی حملہ کیا گیا۔





















