قطر نے ایرانی حملوں کو روکنے کیلئے پلان میں تبدیلی کا اعلان کردیا گیا۔
قطری وزارت دفاع کی جانب سےکہا گیا کہ اب تک ہم ایرانی حملے روکنے کیلئے پیٹریاٹ دفاعی نظام استعمال کررہے تھے،اب لڑاکا طیارے سمندر کے اوپر ہی ایرانی ڈرونز اور میزائیل روکیں گے،
قطری وزارت دفاع کےمطابق پچھلےدس گھنٹوں سے دوحہ کی فضاؤں میں کوئی دھماکا نہیں ہوا،ساحل سے دور سمندر کے اوپر دھماکے سنائی دے رہے ہیں۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات میں ایرانی سفیردفترخارجہ طلب،احتجاج ریکارڈ کرایاگیا،اماراتی وزارت خارجہ نےکہا ہماری سرزمین کو نشانہ بناناہماری خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہے،ایرانی حملے قومی سلامتی کے لیےسنگین خطرہ ہیں،ایران بین الاقوامی معاہدوں،قراردادوں اور تسلیم شدہ اصولوں کو پامال کررہا ہے،ان اقدامات سے بےگناہ شہریوں کی جانیں خطرے میں ڈالی گئیں۔
اماراتی وزارت خارجہ کےمطابق ایران کی کسی بھی وضاحت یا عذرکو امارات قطعی طور پر مسترد کرتا ہے،امارات اپنی سرزمین کو ایران کےخلاف عسکری کارروائی کے لیےاستعمال ہونے نہیں دے گا،ایرانی حملوں کے دوطرفہ تعلقات پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے،امارات اپنی خودمختاری کے احترام اور حملوں کے فوری خاتمے کا مطالبہ کرتا ہے۔





















