سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان نے افغانستان میں فتنہ الخوارج اور آئی ایس کے پی کے ٹھکانوں پر مؤثرکارروائی کی، افغانستان میں انٹیلیجنس بیسڈ، محدود اوردرست کارروائیاں کیں گئیں۔ کارروائیوں کا ہدف دہشت گرد کیمپ اور ٹھکانے تھےشہری آبادی نہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق عام شہریوں کو نشانہ بنانے کے الزامات جھوٹے اور گمراہ کن ہیں، فتنہ الخوارج عام شہری علاقوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتا ہے، پاکستان نے کارروائی سے قبل نقصانات کم سے کم رکھنے کے اقدامات کیے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان مساجد اور مدارس کے تقدس کا احترام کرتا ہے، دہشت گرد اپنے ٹھکانوں کو مسجد یا مدرسہ قرار دے کر مذہب کا غلط استعمال کرتے ہیں، مذہب کی آڑ میں دہشت گردی خود مذہبی تقدس کی توہین ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ماضی میں یہی عناصر مساجد، امام بارگاہوں اور عام شہریوں پر حملے کرتے رہے، پاکستان کی کارروائی افغانستان کے نہیں بلکہ دہشت گردوں کے خلاف تھی، پاکستان کا اقدام دفاعی نوعیت کا انسداد دہشت گردی ردعمل ہے۔
پاکستان نے بارہا افغان حکام کو دہشت گرد پناہ گاہوں پر تحفظات سے آگاہ کیا، علاقائی خود مختاری کو سرحد پار دہشت گردی کی ڈھال نہیں بنایا جا سکتا، پاکستان داخلی سطح پر وسیع انسداد دہشت گردی آپریشنز جاری رکھے ہوئے ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 2025 میں پاکستان نے 75 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے، جس میں سے 2500 زائد دہشت گرد ہلاک اور سیکڑوں شہری و اہلکار شہید ہوئے، دہشت گردی کے سرحد پار محفوظ ٹھکانے مسئلے کا ایک اہم سبب ہیں بہانہ نہیں۔
پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ، قابل تصدیق کارروائی ناگزیر ہے، پاکستان کشیدگی میں کمی چاہتا ہے مگر شہریوں کے تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
واضح رہے کہ گزشتہ شب فتنہ الخوارج کی جانب سے پاکستان میں کئے گئے دہشتگردی کی کارروائیوں کے جواب میں پاکستان نے افغانستان میں مختلف مقامات پر دہشتگردوں کے 7ٹھکانوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔
ذرائع کے مطابق افغانستان کے صوبہ پکتیا ،پکتیکا، ننگر ہار او رخوست میں جیٹ طیاروں نے بمباری کی جس دوران دہشتگردوں کو بھاری نقصانات کی اطلاعات ہیں ، دہشتگردوں کے متعدد ٹھکانے ملیا میٹ کر دیئے گئے ہیں ۔
وزارت اطلاعات و نشریات نے بتایا کہ پاکستان میں حالیہ خودکش حملوں میں افغانستان میں موجود دہشتگرد قیادت اور ان کے سہولت کار ملوث ہیں۔ دہشتگردوں نے حال ہی میں اسلام آباد کی امام بارگاہ، باجوڑ اور بنوں میں کارروائیاں کیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ان حملوں کی ذمہ داری افغانستان میں موجود پاکستانی طالبان، فتنہ الخوارج اور اس کے اتحادیوں نے قبول کی ہے۔ پاکستان کے پاس اس بات کے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ یہ دہشتگرد کارروائیاں افغانستان میں موجود قیادت کی ہدایات پر کی گئیں۔






















