نادرا نے اپنے ڈیٹا بیس سے متعلق رپورٹ وزارت داخلہ میں جمع کروا دی۔
نادرا رپورٹ کےمطابق نادرا ڈیٹا میں 22 کروڑ 70 لاکھ رجسٹرڈشہری ہیں ،3 کروڑ19 لاکھ بچوں کی پیدائش کا یونین کونسلزمیں اندراج ہے،یونین کونسلزمیں درج 3 کروڑ 19 لاکھ بچے ابھی نادرا سےرجسٹرڈ ہی نہیں، پاکستان کی 97 فیصد آبادی سرکاری طورپررجسٹرڈ ہے،رجسٹرڈ افراد میں 52 فیصد مرد جبکہ 48 فیصد خواتین شامل ہیں۔
بائیومیٹرک ڈیٹا کےمطابق نادرا کےپاس 17کروڑافراد کےچہروں کی شناخت موجود ہے، 70 لاکھ افراد کی آنکھوں کا ڈیٹا،1 ارب 68 کروڑ فنگرپرنٹس نادرا سسٹم میں موجود ہیں،2025 میں 24 کروڑ 50 لاکھ بائیو میٹرک ویریفیکشنز فراہم کی گئی۔
رپورٹ کےمطابق قومی رجسٹریشن میں 4 فیصد اضافہ، 18سال سے کم عمربچوں کی رجسٹریشن میں 11فیصد اضافہ ہوا،ایکسپائرڈ شناختی کارڈ کی تجدید میں 24 فیصد اضافہ ہوا، اموات اندراج کے بعد شناختی کارڈ منسوخ کروانےوالوں میں 900 فیصد اضافہ ہوا،خواتین کی رجسٹریشن میں بھی آٹھ فیصد اضافہ ہوا۔






















