سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کا سن کر بہت دکھ ہوا۔ دعا کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتا
سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے انسداد دہشت گردی عدالت میں عبوری ضمانت پیشی کے موقع پر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قیدیوں کے بھی کچھ حقوقِ ہوتے ہیں جو اس کو ملنے چاہیے، یہ جیل انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میاں محمود الرشید نے چیک کے لیے اپ اسپتال جانا تھا، جیل انتظامیہ نے پولیس سیکیورٹی نہیں دی۔ڈاکٹر یاسمین راشد کا علاج بھی سیکیورٹی نہ ہونے کی وجہ سے نہ ہوسکا۔ اڈیالہ جیل میں اگر کسی کی آنکھ کی بینائی چلی جائے تو اسکی ذمہ دار جیل انتظامیہ ہے۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اس ملک میں امن دیکھنا چاہتا ہوں، بلوچستان میں جو دہشت گردی ہورہی ہے اس میں بھارت کا ہاتھ ہے۔ میں حکومت کے موقف کے ساتھ اتفاق کرتا ہوں۔
دوسری جانب کمرہ عدالت میں شاہ محمود قریشی نے بانی پی ٹی آئی کی بہن عظمی خان سے ملاقات کی اور بانی پی ٹی آئی کی آنکھ پر افسوس کا اظہار کیا۔ بانی پی ٹی آئی کی صحت یابی کے لیے دعا کی۔ عظمی خان نے بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے شاہ محمود قریشی کو بھی آگاہ کیا۔






















