ترجمان دفترخارجہ طاہراندرابی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے واشنگٹن میں بورڈ آف پیس اجلاس کی تصدیق کرتے ہیں، اسحاق ڈاربھی ان کے ہمراہ غزہ بورڈ آف پیس اجلاس میں شرکت کریں گے۔
ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان دفترخارجہ طاہراندرابی نے کہا کہ ہم نے غزہ بورڈ آف پیس کے اجلاس میں خلوص نیت سے شرکت کی۔
ترجمان دفترخارجہ کا کہنا تھا کہ کرکٹ میں سیاست ملوث کرنا یا اسے ہتھیار بنانا افسوسناک ہے، بھارت کیخلاف نہ کھیلنےکا فیصلہ اس کھیل کو ہتھیارنہ بننےدینے کیلئے کیا تھا، بھارت کرکٹ کو بنگلا دیش کے خلاف ہتھیار بنانا چاہ رہا تھا، ہمارا فیصلہ کرکٹ میں سیاست کو نہ لانے دینے کے لیے تھا۔
طاہراندرابی نے کہا کہ ہم نے پہلے بھی بھارت کے ساتھ 90 گھنٹےکی جنگ میں امریکہ کےامن کردار کی تعریف کی، ہم نے بھارتی جنگی طیارے گرائےاسکی تصدیق ان طیاروں کو بنانے والی کمپنیوں نے بھی کی، مستقبل میں بھارتی جارحیت کا سخت جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے قرض رول اوور کرنے کا معاملہ اٹھایا گیا، یقین دلاتےہیں اسحاق ڈارکی مثبت کوششوں سے یو اے ای کی جانب سےقرض رول اوور کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
ترجمان دفترخارجہ کے مطابق پاکستان کی قانونی ٹیم نےہیگ میں عالمی ثالثی عدالت کی سماعت میں شرکت کی، بھارت کوعالمی ثالثی عدالت نے سندھ طاس معاہدے کے تحت شرکت کی دعوت دی، سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت اس سماعت میں شرکت کا پابند تھا، پاکستان تجدید کرتا ہےکہ فریقین پرسندھ طاس معاہدے کی پابندی ضروری ہے۔
طاہراندرابی نے کہا کہ سفارت کاری جھڑپوں اور جنگ میں بھی جاری رہتی ہے، ہم افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال نہیں چاہتے، افغانستان کو تسلیم کرنے پر ایران کے فیصلے کا علم نہیں، کسی بھی ملک کا یہ اپنا فیصلہ ہوتا ہےکہ وہ کسی ملک کو تسلیم کرے یا نہیں۔
طاہراندرابی کا کہنا تھا کہ داعش کا ماسٹر مائنڈ افغانستان میں موجود ہے، رپورٹ کےمطابق افغانستان میں موجود داعش کے ماسٹرمائنڈ پاکستان کیخلاف کارروائیوں میں تعاون کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی پابندیاں کمیٹی کی رپورٹ دیکھی ہے، رپورٹ کے مطابق ڈی فیکٹوافغان انتطامیہ کی پشت پناہی سے کالعدم ٹی ٹی پی کارروائیاں کررہی ہے، رپورٹ میں شمالی افغانستان میں آئی ایس کےپی کےفعال ہونے کا بتایا گیا ہے، افغانستان میں کالعدم ٹی ٹی پی کی نقل و حرکت اور پاکستان کیخلاف کارروائیوں کی تصدیق کی گئی ہے۔
ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ ابھی تک سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کےدورہ پاکستان کےحوالےسےمعلومات نہیں ہیں، پاک سعودی عرب مشترکہ بیانات میں کہا گیا تھا کہ سعودی ولی عہد رواں برس دورہ پاکستان کریںگے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان عمان میں ایران امریکا مذاکرات کا خیر مقدم کرتا ہے، ہم ایرانی وزیرخارجہ کے مثبت بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں، اس سےپہلےیہ مذاکرات استنبول میں وسیع پیمانے پر ہونے تھے، اس کےحوالےسےپاکستان کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی، بعد ازاں ان مذاکرات کا اسپیکٹرم محدود کیا گیا۔






















